انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 86

العلوم جلد ۵ AM جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں آب خورہ ٹیڑھا رکھ دیا۔لکھا ہے۔اس پر انھوں نے بادشاہ کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس کو کس احمق نے وزیر بنایا ہے کہ یہ آنجورہ کو بھی سیدھا رکھنا نہیں جانتا۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنی سی بات پر بادشاہ کے سامنے ایسے الفاظ استعمال کرنے مناسب نہ تھے لیکن اگر دیکھا جائے تو اس قسم کی معمولی باتوں کا انسان کے دوسرے اہم کاموں پر بڑا اثر پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھتے وقت صفوں کو سیدھا رکھو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔اسی طرح فرمایا خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔صفوں کو سیدھا رکھنے کی حقیقت فوجوں کے ظاہری انتظام کو دیکھ کر معلوم ہو سکتی ہے۔فوجوں میں کیسی ظاہری خوبصورتی اور انتظام ہوتا ہے اور اس کا ان کے کام پر کتنا اثر پڑتا ہے۔لیکن جن فوجوں کا ظاہری انتظام اچھا نہیں ہوتا۔وہ بھی دشمن پر فتح نہیں پاسکتیں تو مومن کو ظاہری شکل بھی خوبصورت بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور کچھ سننے کے لئے ظاہری خوبصورتی یہی ہے کہ سننے والوں کا اکثر حصہ خطیب کے سامنے ہو۔کیونکہ سامنے ہونے کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔لاہور کی حیثیت حضرت خلیفہ مسیح کے نزدیک اس کے بعد میں آپ لوگوں کی توجہ اس مضمون کی طرف پھیر تا ہوں جس کے لئے میں نے آج آپ کو بلایا ہے۔میں لاہور میں قریباً بیس سال سے آتا ہوں اور یہاں خدا تعالیٰ نے میرا ایک خاص تعلق بھی پیدا کیا ہوا ہے یعنی ہیں وہ گھر ہے جس میں میرا بیاہ ہوا ہے۔اس لحاظ سے قادیان کے بعد لاہور میرے لئے گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔پھر جس طرح حضرت صاحب کے نزدیک قادیان کے بعد سیالکوٹ کا درجہ تھا اسی طرح میرے نزدیک قادیان کے بعد لاہور کا درجہ ہے اور گو ہمارا تو یہ مذہب نہیں لیکن بعض فقہاء کے نزدیک اس تعلق کی وجہ سے جو مجھے لاہورسے ہے یہاں آکر مجھے پوری نماز پڑھنی چاہئے۔اس عرصہ میں کہ جب سے میں لاہور آتا ہوں۔میں نے جماعت لاہور کی مختلف حالتیں یہاں کی جماعت کی مختلف حالتیں دیکھی ہیں میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جبکہ لاہور میں ہماری جماعت تو تھی لیکن بہت قلیل تھی۔پھرمیں نے وہ زمانہ بھی دکھا ہے کہ یہاں کی جماعت کثیر ہو گئی اور بہت سے لوگ اس میں شامل ہو گئے۔مگر میرے نزدیک اس وقت باد بود کثیر ہونے کے قلیل تھی۔اس لئے کہ لوگوں کے دل پھٹے ہوئے تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاہور اس اختلاف کا مرکز قرار پایا میں نے ڈائنامیٹ کی طرح احمدیت کو اڑانا چاہا اور وہ شورش عاد بخاري كتاب الصلوة باب تصوية الصفوف عند الانارة امه مسند احمد بن حنبل جلدیم صفحه ۱۳۳