انوارالعلوم (جلد 5) — Page 77
انوار العلوم جلد ۵ صداقت اسلام دکھلائے۔اور وہ اس طرح کہ طرفین کچھ کچھ مریض لے لیں اور ان کی صحت کے لئے دعا کریں جیسں کے زیادہ مریض صحت یاب ہو جائیں اس کے مذہب کو سچا سمجھا جائے۔اس پر بڑے بڑے انگریزی اخباروں نے مضامین لکھے کہ ہمارے پادری جو اتنی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں وہ کیوں مقابلہ میں نہیں آتے۔یہی وقت عیسائیت کو سچا ثابت کرنے کا ہے۔لیکن کوئی مقابلہ پر نہ آیا۔یہ فیصلہ کا نہایت آسان اور عمدہ طریق تھا مگر کسی نے قبول نہ کیا اور یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ دیگر مذاہب کے لوگ محسوس کرتے تھے کہ اپنی صداقت کا ثبوت اسلام ہی دے سکتا ہے ہمارے مذہب کچھ نہیں کر سکتے۔حضرت مرزا صاحب کے علمی کارنامے پھر حضرت مرزا صاحب نے علمی طور پر ایسے ایسے مضمون لکھے کہ مخالفین بھی ان کے سب سے زبردست ہونے کا اقرار کرنے پرمجبور ہوگئے۔چنانچہ لاہور میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا جی کا نام مہوتسو ر کھا گیا۔اس میں یہ شرط رکھی گئی کہ ہر ایک مذہب کے قائمقام اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں اور کسی دوسرے مذہب پر کوئی حملہ نہ کریں۔حضرت مرزا صاحب نے اس کے لئے اسلام پر مضمون لکھا اور قبل از وقت خبر دے دی اور اشتہار چھاپ دیا کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ اس جلسہ میں تیرا مضمون سب سے اعلیٰ رہے گا۔چنانچہ جب آپ کا مضمون اس جلسہ میں پڑھا گیا اور اس کے پڑھنے کا وقت پورا ہو گیا تو سب حاضرین جن میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل تھے بول اُٹھے کہ اور وقت دیا جائے اور ایک شخص نے اپنا مضمون پڑھنے کا وقت اس کے لئے دے دیا۔لیکن جب پھر بھی وہ مضمون ختم نہ ہوا تو لوگوں نے کہا کہ اسی کو پڑھتے جاؤ لیکن پھر بھی وہ ختم نہ ہوا تو لوگوں نے کیا جلسہ میں ایک دن اور بڑھا دیا جائے۔چنانچہ ایک دن بڑھایا گیا اور اس میں وہ مضمون سُنایا گیا۔اور لوگوں نے علی الاعلان کہ دیا کہ خواہ ہم ان باتوں کو مانیں یا نہ مانیں لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ مضمون باقی سب مضامین سے بالا رہا اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اس کے متعلق ایک مضمون بھی لکھا۔** حضرت مرزا صاحب کے متعلق ایک مخالف اخبار کی شہادت العرض علی طور پر صرت اخبار مرزا صاحب نے اسلام کی صداقت میں وہ کام کیا کہ جو اس زمانہ میں کوئی نہ کر سکا۔اور آپ کے مخالفین تک نے اس کو تسلیم کر یا چنانچہ آپکی وفات پر اس شہر کے اخبار وکیل نے جو ہمارے سلسلہ کا نہیں ہے ایک زبر دست آرٹیکل لکھا