انوارالعلوم (جلد 5) — Page 69
انوار العلوم جلد ۵ 19 صداقت اسلام اس نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر اس وقت کیا تھا جب کہ وہ بالکل گنام تھا۔کوئی کہ سکتا ہے کہ چونکہ مرزا صاحب نے ایک نیا دعوی کیا تھا اور جو لوگ نئے دعوے کیا کرتے ہیں ان کے نام پھیل ہی جایا کرتے ہیں۔مگر ہم کہتے ہیں کہ اسی نے نیا دعوی نہیں کیا تھا۔اسی زمانہ میں اور وں نے بھی نئے نئے دعوے کئے تھے۔ان کے نام کہاں پھیلے۔پھر کوئی ایک بھی شخص تو ایسا نہیں جس نے قبل از وقت کہا ہو کہ میرا نام تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور پھر اس کا نام پھیلا ہو۔یہ بات صرف حضرت مرزا صاحب کو ہی حاصل ہوئی ہے کہ آپ نے قبل از وقت جس طرح بتایا اسی طرح ظہور میں آیا جس سے ثابت ہے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کر لیا تھا۔ورنہ اسی پنجاب میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے نے دعوے کئے مگر ان کے نام ہر گز نہیں پھیلے۔اور نہ انہوں نے قبل از وقت اپنے متعلق کوئی اس قسم کا اعلان کیا جس قسم کا حضرت مرزا صاحب نے کیا۔اب ہم پوچھتے ہیں کیا جس طرح حضرت مرزا حضرت مرزا صاح کے ذریعہ اشاعت اسلام صاحب نے قبل از وقت بتایا تھا اسی طرح ہوا یا نہیں ؟ اور ضرور ہوا۔وہی اقوام جو یہ کہتی تھیں کہ اسلام ایک صدی کے اندر اندر مٹ جائیگا انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اسلام قبول کیا۔یورپ کے لوگ جو بوجہ مسلمانوں کے علوم اور تمدنی ترقی میں بہت پیچھے رہنے کے کہتے تھے کہ اسلام جہالت کا مذہب ہے اور اسلام کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ان میں سے کئی ایک نے خود اسلام قبول کیا اور ایسے وقت میں قبول کیا جب دنیا فتویٰ دے چکی تھی کہ اسلام مٹ جائے گا۔اور ایسے وقت میں اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے جبکہ اسلام لوگوں کے سامنے پیش کرنا تو الگ رہا مسلمان کہلانے والے اسے خود چُھپا رہے تھے۔کیا اس سے وہ بات ثابت ہوگئی یا نہیں جو حضرت مرزا صاحب نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر بتلائی تھی کہ میرے ذریعہ دنیا میں اسلام پھیلے گا۔اس کے لئے جب ہم اس بیس پچیس سال کے عرصہ کو دیکھتے میں تو معلوم ہوتا کہ انہیں لوگوں میں سے جو اسلام کے خطرناک دشمن ہیں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نہیں سوتے جب تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہیں بھیج لیتے۔اور وہ ملک جہاں سے ہمارے کانوں میں یہ صدا آتی تھی کہ اسلام سو سال تک برباد ہو جائے گا اور وہ ملک جو اپنے خیال میں ہم پر رحم کھا کر کروڑوں روپے اس لئے خرچ کرتا تھا کہ ہم سے ایک خدا کی پرستش چھڑا کہ تین خداؤں کا حلقہ بگوش بنائے اور وہ لوگ جو ہمیں اپنا شکار سمجھے کہ ہم پر ہلچائی ہوئی نظریں ڈالتے تھے اور وہی مذاہب جو اسلام کو جہالت اور بیوقوفی کا مذہب قرار دیتے تھے اپنی کے مقابلہ میں حضرت