انوارالعلوم (جلد 5) — Page 566
ہوا کرتے ہیں یا تو طاقت ور ہاتھ ہوں، مضبوط بازو ہوں یا اعلیٰ درجہ کے اور مضبوط ہتھیار ہوں اور اعلیٰ درجہ کا نتیجہ اسی طرح نکل سکتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں حاصل ہوں ورنہ اگر طاقتور ہاتھ ہوں لیکن ہتھیار ناکارہ اور کمزور ہوں تو بھی اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا اور اگر ہتھیار اعلیٰ درجہ کے ہوں لیکن ہا تھوں میں طاقت نہ ہو تو بھی بہتر نتیجہ نہیں رونما ہو سکتا مثلا اگر ایک کمزور شخص ہو وہ اعلیٰ درجہ کی تلوار لے کر دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہو جائے تو مار ہی کھائے گا۔یا طاقتور انسان ہو مگر خراب اور ناقص بندوق لے کر کھڑا ہو جائے تو بھی شکست ہی کھائے گا پس مفید اور اچھا نتیجہ اس صورت میں نکل سکتا ہے کہ یہ دونوں بائیں حاصل ہوں ہاتھوں میں طاقت اور قوت بھی ہو اور کام کی مشق ہو اور ہتھیار بھی اعلیٰ درجہ کے ہوں۔متوقع نتائج کیوں نہیں نکل رہے؟ اب نہیں دیکھنا چاہئے کہ جس نتیجہ کے نکلنے کی ہمیں امید ہو سکتی ہے وہ اگر نہیں نکلتا تو ان دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز ہے جس میں کمی ہے۔آیا ہمارے پاس ہتھیار ایسے ناقص ہیں کہ ان سے کام نہیں لیا جا سکتا؟ یا ہتھیار تو املی درجہ کے ہیں مگر ہم ایسے نہیں ہیں کہ ان سے کام لے سکیں۔یا دونوں باتیں نہیں ہیں۔ہتھیار بھی اعلیٰ درجہ کے نہیں ہیں اور ہم بھی اس قابل نہیں کہ کام کرسکیں۔جب ہم غور کرتے ہیں تو اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں رہتا کہ ہتھیار تو ہمارے پاس اعلیٰ درجہ کے ہیں۔کیونکہ دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ جو دلائل ہمارے پاس ہیں وہ بہت مضبوط اور زبردست ہیں۔خصوصاً حضرت مسیح موعود کے ذریعہ جو دلائل اور براہین نہیں پہنچے ہیں ان کی قوت اور طاقت کا اعتراف دشمن بھی کرتے ہیں۔اس بات کی موجودگی میں اور پھر اس بات کے ہوتے ہوئے کہ ہم شواہد اور دلائل کے ساتھ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے۔پھر اعلیٰ درجہ کے نتائج کا نہ نکلنا بتاتا ہے کہ ہم میں ہی نقص ہے ورنہ اگر ہم ان ہتھیاروں کو عمدگی کے ساتھ چلانے والے ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اعلیٰ درجہ کے نتائج نہ پیدا ہوں۔پس می ظاہر ہوتا ہے کہ ہتھیار چلانے والے اچھے نہیں ہیں اور انہیں ہتھیار چلانے کا فن نہیں آتا۔چونکہ نیا سال شروع ہو رہا ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا ہے کہ دوستوں کو جمع کرکے میں اس مضمون پر کچھ بیان کروں کہ کس طرح تبلیغ کے عمدہ نتائج نکل سکتے ہیں۔