انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 543

انوار العلوم جلد ۵ ۵۴۳ اندر بڑے خیالات کی تحریک جاتی ہے انہی ذرائع سے نیکی کے خیالات کی تحریک بھی جاتی ہے۔مثلاً جہاں دیکھنے سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں مال چرا لیا جائے وہاں دیکھنے سے ہی یہ بھی خیال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں غریب ہے اس کی مدد کی جائے۔اسی طرح جہاں کان کے ذریعہ ایک بات سُن کر برا خیال پیدا ہو سکتا ہے وہاں کان ہی کے ذریعہ نیک خیال بھی پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح چھونے ، دیکھنے اور چکھنے سے ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز ایسی ہے کہ بد طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہے اور نیک طور پر بھی۔اس لئے جن ذرائع سے شیطان اندر داخل ہو سکتا ہے انہی ذرائع سے فرشتے داخل ہو کر نیکی کی تحریک بھی کرتے ہیں۔۱۵۴: پھر قرآن کریم سے بھی یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے کہ شیطان کے گمراہ کرنے کے تو بہت سے راستے ہیں لیکن ملائکہ کا ایک ہی راستہ ہے۔ان کو دھوکا اس آیت سے لگا ہے کہ وَ انَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرقَ بِكُمُ عَن سَبِيلِهِ (انها :) (الانعام خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرا سیدھا رستہ ہے اس کی اتباع کرو اور مختلف رستوں کی اتباع نہ کرو۔وہ تمہیں کہیں کا کہیں پہنچا دیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کا ایک ہی رستہ ہے اور شیطان کے کئی رستے ہیں مگر اس آیت کے معنے سمجھنے میں انہیں غلطی لگی ہے۔اول تو قرآن کریم میں ہی خدا تعالے نے بتایا ہے کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبلَنَاء (العنکبوت : ) کہ جو لوگ ہمارے رستہ میں کوشش کرتے ہیں انہیں ہم مختلف رستے دکھاتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کے بھی مختلف رہتے ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جو ایک رستہ اور کئی رستے بتائے گئے ہیں۔اس سے یہ بات بتائی ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے کئی مذہب قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کے قبول کرنے سے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ہاں آگئے اسلام نے روحانی ترقیوں کے لا تعداد رستے بتائے ہیں۔تو اس آیت میں نفی اس بات کی گئی ہے کہ جس طرح شیطان نے گمراہ کرنے کے کئی رستے رکھے ہوتے ہیں۔کہیں عیسائی بننے کی تحریک کرتا ہے، کہیں آریہ بننے کی ، کہیں کوئی اور جھوٹا مذہب قبول کرنے کی۔اس طرح خدا نے نہیں کیا بلکہ خدا نے ایک مذہب رکھا ہے ہاں وہ مذہب ایسا ہے جو کئی رستوں پر حاوی ہے۔اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے صوفیاء نے غلطی کھائی ہے۔اصل میں خدا تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے شیطان کے گمراہ کن طریقوں سے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَى (الاعراف : ۱۵۷ ) کہ میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔