انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 529

انوار العلوم جلد ۵۲۹ ملا حكمة الله ہی ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ سورج کا مکس شیشے پر پڑے اور اس سے کسی اور چیز پر پڑے۔جبرائیل خدا تعالیٰ سے نور اخذ کر کے آگے ڈالنا ہے نہکہ اپنی ذات ہے۔اور واسطہ کبھی اعلیٰ ہوتا ہے اور کبھی ادنی۔اعلیٰ کی مثال تو شیشے کی ہے جس پر سورج کا عکس پڑے شیشہ اس چیز سے اعلی ہو گا جس پر اس کے واسطہ سے عکس پڑے گا۔اور ادنی کی مثال یہ ہے کہ بادشاہ بیٹھی لکھ کر چپڑاسی کو دے کہ فلاں وزیر کو پہنچا دے وہ نہیں جاتا کہ چھٹی میں کیا ہے یا کیا نہیں ؟ اس کا کام پہنچا دیا ہے۔یا مثلاً اس کے ہاتھ زبانی پیغام بھی کہلا بھیجے۔تب بھی وزیر جو کچھ اس سے کسے گا وہ پیغامبر سے اکل مفہوم ہو گا۔اس مثال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کہ سکتے ہیں کہ کن ہے کہ خدا تعالیٰ کا پر تو جبرائیل کے ذریعہ نبی پر پڑے مگر جبرائیل کو معلوم ہی نہ ہو کہ کیا ہے ؟ اس کا پتہ حدیث سے بھی لگتا ہے۔معراج کی حدیث میں آتا ہے کہ ایک مقام پر جاکر جبرائیل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکھا آگے آپ ہی جائے میں نہیں جاسکتا۔تو جبرائیل کے ذریعہ جو کچھ پہنچایاگیا وہ ایسا ہے جیساکہ کسی کو ایک پیغام دے کر کسی کے پاس بھیجا جائے جس میں سے کچھ تو وہ مجھ سے اور کچھ ایسے اشارے ہوں جنہیں وہی سمجھ سکتا ہو جس کے پاس پیغام بھیجا گیا یا وہ سمجھ سکتا ہے جس نے پیغام بھیجا۔اسی طرح جبرائیل کو جو کچھ دیا گیا وہ لے تو گیا، گر اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں خدا اور رسول ہی سمجھ سکتے ہیں۔یہ مثال تو ایسی ہے کہ جبرائیل" جو کچھ لے گیا اسے وہ سمجھ نہ سکتا تھا۔اس کے علاوہ وہ حصہ جو جبرائیل سمجھ سکتا تھا اس میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بڑھے ہوئے تھے۔اس کو مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں۔دو آدمی بخار میں مبتلا ہوں اور دونوں کو کونین دی جائے تو بسا اوقات ایک کو تو جھٹ اثر ہو جائے گا اور ایک کو دیر میں ہو گا۔ایسا کیوں ہو گا ؟ ظاہر ہے کہ یہ فرق ان دونوں کی ذاتی قوتوں کی وجہ سے پڑے گا جس کے جسم میں ایسے مادے ہوں گے کہ جو کو زمین پر غالب آجائیں اس پر کم اور دیر سے ہو گا۔اور میں کا جسم صاف ہو گا اس پر فوراً اثر ہو گا اور بخار اتر جائے گا۔یہ مثال تو دفع شر کی قوتوں کے اختلاف کی ہے۔جلب خیر میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔دوادمی ایک ہی خوراک کھاتے ہیں ایک بہت موٹا اور مضبوط ہو جاتا ہے دوسرا اس قدر فائدہ نہیں اُٹھاتا۔گولبا اوقات وہ پہلے سے غذاء مقدار میں بھی زیادہ کھا لیتا ہے اسی طرح وہ تعلیم میں کو دونوں یعنی جبرائیل اور رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم سمجھتے تھے اس میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل تھے کیونکہ وہ رسول کریم صلی الہ علیہ ولم پر آپ کے قومی کے مطابق اثر ڈالتی تھی اور حضرت جبرائیل پر ان کے قومی کے مطابق۔یہ بات اس طرح اور زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتی ہے کہ میں اس وقت یہ مضمون اردو میں