انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 471

انوار العلوم جلد ۵ اصلاح نفس اسے اب وہ آیا کی جو یہ کہ مجھ پاتا آیا ہے میرے رشتہ دار گے ہیں اس کو یں گے جھوٹا ہے اسے سمجھنا چاہئے کہ اس پر ابتلا ء نہیں بلکہ اس کی کسی غلطی کی وجہ سے عذاب آیا ہے۔پس اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو اور اس نعمت کی قدر کرو جومسیح موعود کے ذریعہ نہیں حاصل ہوئی ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ کتنی صدیاں گزرگئیں کہ لوگ مسیح موعود کا انتظار کر رہے تھے۔بڑے بڑے علماء مسیح موعود کو دیکھنے کی حسرت کو لے کر چلے گئے لیکن تم کو خدا تعالیٰ نے اس کا زمانہ عطا کر دیا ہے۔تم کو وہ ہادی ملا ہے جس کی تعریف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور جس کی تعریف عرش پر بھی کی گئی ہے کہ لَوْلَاكَ كَمَا خَلَقْتُ الافلاك تذكره من ایڈیشن چهارم، اگر تونہ ہوتا تو میں افلاک کو ہی پیدا نہ کرتا۔پھر خدا نے اپنے فضل سے تمہارے لئے وہ لوگ مہیا کر دینے جو خود قرآن سمجھنے اور تمہیں سمجھا سکتے ہیں۔پھر خدا نے تمہیں ایک ایسا دل دیا ہے جس میں تمہارے لئے تم سے زیادہ درد ہے۔ایک زبان دی ہے جو تمہارے لئے ناصح ہے۔ایک ہاتھ دیا ہے جو تمہیں اوپر کو اٹھاتا ہے میں تم اس دل اور زبان اور ہاتھ کی قدر کرو تمہارے بعد آنے والے آئیں گے اور حسرت کریں گے کہ ان کو یہ نعمت نہ لی۔مگر تم کو ہی ہے افسوس ہو گا اگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔تمہارے لئے آج وہ موقع ہے کہ تمہارے لئے خوانوں میں قسم قسم کی نعمتیں لگا کر آقا خود تمہارے پاس لایا ہے اس کی قدر کرو اور اپنے اندر تندی پیدا کرو تمہارا ایمان پہاڑ کی طرح ہو کہ بڑی سے بڑی چیز جب اس سے ٹکرائے تو پاش پاش ہو جائے نہ کہ تھوڑی تھوڑی بات پر کہو کہ ابتلاء آ گیا۔مؤمن کب کہتا ہے کہ میں ابتلاء میں پڑ گیا ؟ ہاں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم نے مومن کو ابتلاء میں ڈالا۔خدا تعالیٰ انبیائڈ کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو ابتلاء میں ڈالا اگر کوئی نہیں جو یہ ثابت کر سکے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ سلم نے کبھی کہا ہوکہ مجھے انتباہ آیا۔تم مضبوط چٹان کی طرح بن جاؤ اور ایسی مضبوط چٹان کی طرح کہ اگر ساری دنیا کے بهادر بنو ہاتھی مل کر بھی ٹکر ماریں تو وہ پاش پاش ہو جائیں مگر تم ایک ذرہ بھی اپنی جگہ سے نہ بلو تم بزدل نہ بنوں، ڈرپوک نہ بنو، تم گورنمنٹ کی اطاعت کرو مگر اس لئے نہیں کہ تم اس سے ڈرتے ہو بلکہ اس لئے کہ اس کی اطاعت کرنے کا حکم خدا نے دیا ہے۔گورنمنٹ خواہ تمہاری گردنوں پر تلوار بھی رکھ دے تو بھی اس کے ڈر کی وجہ سے اس کے آگے ذرا نہ جھکو کہ تمہارا جھکنا صرف خدا ہی کے حکم کے لئے ہے اور اس نعمت کی قدر کرو جو خدا نے تمہیں دی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اس نعمت کو سمجھا اور تم جانتے ہو کہ وہ کیا سے کیا بن گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں کہا کہ اگر کسی کو مجھ سے کوئی دکھ پہنچا ہو تو وہ مجھ سے بدلا لے لے۔ایک صحابی نے کہا مجھے پہنچا ہے "