انوارالعلوم (جلد 5) — Page 446
انوار العلوم م اصلاح نفس جاتا ہے کیا اس کو بھی نہ لیں ؟ آپؐ نے فرمایا تم خود نہ لو بلکہ اشاعت اسلام کے لئے دے دو۔ایک شخص نے حضرت صاحب کی وفات پر کہا۔واہ مرزڈیا ! مرگیٹوں پر سود جائز نا ای کیتا۔تو شریعت نے جو حکم دیا ہے اسے کوئی بدل کس طرح سکتا ہے ؟ اگر کوئی شریعت کے خلاف فتوی دے بھی دے تو بھی شریعت کا حکم نہیں چھوڑا جا سکتا ہیں میں روزہ کے متعلق خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں اس کی قدر کرو اور اس پر عمل کرو۔علم حاصل کرو تیسری بات علم کا سیکھنا ہے۔مومن کبھی جاہل نہیں ہو سکتا۔ا - ب - ت پڑھا ہوا نہ ہو تو ہو۔مگر علم سے جاہل نہیں ہو سکتا۔کیا حضرت صاحب کتابی علم اس زمانہ کے مولویوں سے زیادہ جانتے تھے ؟ مولوی تو ان کے متعلق یہی کہتے تھے کہ منشی ہے لکھنا جانتا ہے۔علم اس کے پاس کہاں ہے ؟ مگر گیا یہ درست نہیں کہ آپ نے ہر علمی مقابلہ میں ان علم جاننے والوں کو شکست دی ؟ پھر یہی نمونہ حضرت مولوی صاحب کے زمانہ میں تھا اور پھر اب بھی یہی ہے۔میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا ہر دفعہ فیل ہی ہوتا رہا ہوں مگر اب میں خدا کے فضل سے کہتا ہوں کہ کسی علم کا مدعی آ جائے اور ایسے علم کا مدعی آجائے جس کا میں نے نام بھی نہ سُنا ہو اور اپنی باتیں میرے سامنے مقابلہ کے طور پیش کرے اور میں اسے لاجواب نہ کر دوں تو جو اس کا جی چاہے کے۔ضرورت کے وقت ہر علم خدا مجھے سکھاتا ہے اور کوئی شخص نہیں ہے جو مقابلہ میں ٹھہر سکے۔ابھی سورۃ الناس کی تفسیر جوئیں نے سنائی ہے۔یہ الہام ہی کے ذریعہ مجھے بتائی گئی ہے۔حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ اس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے۔میں نے بہت غور کیا مگر یہ بات میری سمجھ میں نہ آتی تھی کہ کس طرح اس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے ؟ لیکن اسی جگہ جب میں نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو سجدہ میں جاتے ہوئے ایک سیکنڈ میں ساری تفسیر اس طرح میرے قلب میں ملا دی گئی جس طرح شکر دودھ میں ملا دی جاتی ہے اور جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ اس میں سے بہت مختصر طور پر بیان کیا ہے۔ورنہ دنیا کے سارے موجودہ مفاسد کے متعلق اس کی نہایت لطیف تفسیر بیان کی جاسکتی ہے۔پس تم دین کا علم حاصل کرو۔بے شک دُنیا کا علم بھی ضروری ہے مگر دین کا اس کے ساتھ ضرور ہو۔اب جو لوگ دنیا کا علم حاصل کر لیتے ہیں وہ اپنا حق سمجھ لیتے ہیں کہ مذہبی مسائل پر بھی بولیں لیکن یہ غلط بات ہے۔تم ظاہری علوم بھی پڑھو مگر ان کے ساتھ دین کا علم بھی ضرور سیکھو اور اس قدر سیکھو کہ خدا کی طرف سے باتیں سمجھنے کی اہمیت تم میں پیدا ہو جائے۔