انوارالعلوم (جلد 5) — Page 372
انوار العلوم جلد اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب کے لئے ودھوا بیاہ جائز قرار دیا ہے پس آریہ سماج کا کوئی نمائندہ آریہ اصول سے منحرف نہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ ہندو مذہب میں اختلاف کثیر کی موجودگی و یدک دھرم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔کیونکہ ویدک دھرم ہندو دھرم نہیں بلکہ ایک عالمگیر و حرم ہے جو لوگ ویدوں کو نہیں مانتے اور جن کو ہندوؤں نے اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کیا اور جنہوں نے ویدک دھرم کی تائید میں کوئی کتاب نہیں لکھی ان کا وید کے خلاف لکھنا ویدک دھرم پر کوئی حرف نہیں لاتا۔آخر میں لکھتے ہیں کہ میں نے جو چیلنج ان کو دیا ہے کہ سید امیر علی صاحب نے اسلام کے جن مسائل کو ترک کر دیا ہے ان کے متعلق وہ مجھ سے بحث کر سکتے ہیں وہ اس چیلنج کو منظور کرتے ہیں اور اگر مجھے اعتراض نہ ہو تو سب سے پہلے قرآن کریم کے الہامی ہونے کے خلاف دلائل پیش کرنے کے لئے وہ تیار ہیں وہ مضامین پہلے اخبارات میں شائع ہو جاویں پھر کتابی صورت میں شائع ہو جاویں۔رنگت کا سوال مذاق تھا پروفیسر صاحب کے اس لیکچر کا خلاصہ جو انھوں نے آریہ سماج کے جلسہ پر دیا تھا اخبارات میں یہ دیا گیا تھا کہ اسلام آئندہ دنیا کا مذہب نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک تو مسلمانوں کا رنگ سفید نہیں دوسرے خود بعض مسلمان مصنف اسلام کے بعض مسائل کو غلط اور نا قابل تسلیم تصور کرتے ہیں۔ان دونوں سوالات میں سے پہلے سوال کے متعلق تو اپنے تازہ مضمون میں پروفیسر صاحب نے چونکہ تحریر فرما دیا ہے کہ وہ غلط فہمی سے پیدا ہوا ہے اس لئے اس کے متعلق مزید بحث فضول ہے۔دوسرا سوال باقی رہ جاتا ہے جسے انھوں نے پھر پیش کیا ہے اور اس کی صحت پر زور دیا ہے۔پس میں اسی کے متعلق مزید روشنی ڈالوں گا۔مگر پیشتر اس کے کہ ئیں ان باتوں کا جواب دوں جو پروفیسر صاحب نے اپنے دعوئی کی تائید میں بطور تشریح یا بطور دلیل پیش کی ہیں ہیں یہ امر لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ امر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ پروفیسر صاحب نے سوال اول کے متعلق غلط فہمی کو میری طرف کسی طرح منسوب کیا ہے۔غلط فہمی کے تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ کسی عبارت کا جو اصل مطلب ہو اس کے خلاف دوسرا مطلب سمجھ لیا جائے اور یہ بات اس جگہ درست نہیں کیونکہ میں نے جو مفہوم بندے ماترم کا سمجھا ہے اس کے سوا اور کوئی مطلب اس کا نکل ہی نہیں سکتا پس اگر غلط فہمی تھی تو اس کا مرتکب بندے ماترم ہے نہ کہ میں۔بندے ماترم “ ان کی تقریر کا خلاصہ ان الفاظ میں لکھتا ہے :- مگر یہی سب کچھ نہیں کہ مسلمانوں کا رنگ سفید نہیں اس لیئے یورپ کی مشکلات کا حل ان سے نہیں ہو سکتا "