انوارالعلوم (جلد 5) — Page 371
انوار العلوم جلد 2 اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب وہ تحریر فرماتے ہیں کہ مسٹر سید امیر علی صاحب اور مسٹر خدا بخش کی کتابوں سے اقتباسات جس غرض سے پروفیسر صاحب نے پیش کئے تھے اس کا مطلب بھی میں غلط سمجھا ہوں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ کسی مذہب کے پیروکار کا اس مذہب سے منکر ہو جانا لازمی طور پر اس مذہب کے غلط ہونے کی دیل نہیں لیکن اگر کسی مذہب کا پر جوش واعظ اور سلم لیڈر اس کتاب میں جو اس نے اس مذہب کی حمایت میں لکھی ہو اس کے کئی مسائل کو زمانہ کے لحاظ سے ناقابل حمایت تسلیم کرے تو یہ ان مسائل کی کمزوری کا ثبوت ضرور ہے۔اگر ایک مقدمہ میں ایک فریق کا وکیل ہی خاص امر پر زور نہ دے یا اپنی کمزوری مان لے اور موکل اس کے نمائندہ ہونے سے انکار نہ کرے تو عدالت کے لئے ناممکن ہے کہ ان امور کے متعلق اس فریق کے حق میں فیصلہ کرے۔سید امیر علی نہ مرتد ہیں نہ معمولی مسلمان بلکہ انھوں نے یہ کتاب ہی اس غرض سے لکھی تھی کہ یورپ میں اشاعت اسلام ہو۔پس جب ایک مسلمان عالم دنیا کو اسلام کی طرف کھینچنے کے لئے ایک کتاب لکھتا ہے اور اس میں یہ بتاتا ہے کہ اس کے بعض فوائل وحشیوں کے لئے تو مناسب تھے لیکن آج غیر ضروری ہیں تو اگر کوئی غیر مذہب کا واعظ اس سے ہ نتیجہ نکالے رکئی مسلمان عالم بھی اس روشنی کے زمانہ میں اسلام کے چند مسائل کی حمایت نہیں کرسکتے تو اس کا کیا قصور ہے۔پھر لکھتے ہیں اس کے دو جواب ہو سکتے تھے یا یہ کہ سید امیر علی مرتد ہیں یا یہ کہ حوالے غلط ہیں۔مگر سید صاحب کو کسی نے کافر نہیں قرار دیا اور ان کے حوالوں کو کسی نے غلط ثابت نہیں کیا پس ان مسائل کا اسلام کی کمزوری کی دلیل میں پیش کرنا بالکل درست تھا۔یہ میری دیل تھی بھی اور ہے بھی کہ کسی مذہب کے نمائندوں کا باوجود کوشش کے اس کے بعض مسائل کی حمایت کر سکنا اس مذہب کی کمزوری کی دلیل ہے۔پھر پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ ہند و صاحبان کے جو حوالے میں نے پیش کئے تھے وہ اپنے مدعا کو ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔مثلاً کلالہ لاجپت رائے صاحب کے اقوال اول تو کچھ ثابت ہی نہیں کرتے اور اگر ثابت کریں تو وہ آریہ سماجی نہیں ہیں پھر اگر انھوں نے یہ کہدیا کہ پندرہ سو برس سے بعض عقائد کی وجہ سے ہندو مذہب ہماری تباہی کا موجب ہو رہا ہے تو اس میں کیا حرج ہے اس کے تو سب ہند و قائل ہیں۔لالہ مولراج صاحب بھی آریہ سماج کے مذہبی نمائندہ نہیں ہیں اور ان کے خیالات سے آریہ سماج کے دونوں فریق اختلاف ظاہر کر چکے ہیں نہ انھوں نے آریہ سماج کی حمایت میں کبھی کوئی کتاب لکھی ہے۔آریہ گزٹ نے اگر گرے ہوئے لوگوں کیلئے دعوا کے بیاہ کی اجازت دیدی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ پنڈت دیا نند صاحب نے بھی شودروں