انوارالعلوم (جلد 5) — Page 297
+96 اسلام اور تربیت و مساوات ایک دوسرے کو خیانت کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے کہ کیوں صاحب یہ کام بھی جائز ہے تو آگے سے وہ شخص معترض کی کسی خیانت کی طرف جس سے وہ آگاہ تھا اشارہ کر کے کہہ دے کہ ہاں جس طرح وہ جائزہ تھی یہ بھی جائز ہے۔یہ الزامی جواب کہلائے گا اور کمزور ہو گا کیونکہ اس جواب سے جواب دینے والے کی بریت ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ شخص جس نے اعتراض کیا تھا خود اسی قسم کی مرض میں مبتلاء ہے اور اس جواب سے مجیب کی غرض صرف معترض کو خاموش کرنا ہے۔قسم دوم کے الزامی جواب دوسری قسم کا الزامی جواب یہ ہوتا ہے کہ جس بات پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ مجیب کے مذہب میں پائی ہی نہیں جاتی یا اس کے نزدیک جائز ہی نہیں ہوتی یا یہ کہ وہ بات عقلاً اور اخلاقاً بالکل درست ہوتی ہے اور اس پر اعتراض ہی نہیں پڑ سکتا۔یا یہ کہ جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ اعتراض ہی نہیں ہوتا لیکن مجیب وقت بچانے کے لئے کسی ایسی ملتی جلتی لیکن نادرست اور نا واجب بات کی طرف جو معترض یا معترض کے مذہب یا عقیدہ میں پائی جاتی ہے اشارہ کر دیتا ہے اور اس سے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ سائل کو خاموش کردے۔مثلاً اگر کوئی آریہ اسلام پر اعتراض کر دے کہ اسلام میں متعہ کی اجازت ہے اور اس پر کوئی سنی المذہب اس کے جواب میں کہ دہے کہ ہاں یہ مسئلہ ایسا ہی ہے جیسا کہ آریت میں نیوگ کا مسئلہ تو اس سے اس کی غرض معترض کو خاموش کرنا ہوگی۔اور وہ صرف اس تاریخی بحث میں پڑنے سے بچنے کی کوشش کرے گا کہ متعہ اسلامی مسئلہ ہے بھی کہ نہیں۔ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں نہ اس وقت متعہ جائز ہے نہ کبھی پہلے جائز ہوا۔جب تک اسلام کا حکم اس مسئلہ کے تعلیق نازل نہ ہوا تھا اس وقت تک رسول تحریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کی رسوم کے مطابق اس فعل کی اجازت دیتے رہتے تھے۔کیونکہ آپ کی عادت مبارک میں یہ بات داخل تھی کہ آپ الٹی حکم کے نزول تک لوگوں کی رسوم و عادات میں دخل دینا پسند نہ فرماتے تھے اور الٹی کلام کا ادب رکھتے تھے۔یا مثلاً کوئی آریہ صاحب اسلام کے مسئلہ کثرت ازدواج پر اعتراض کر دے اور کوئی مسلمان نیوگ کا حوالہ دے کر ان کو خاموش کرا دے تو یہ بھی الزامی جواب ہو گا۔لیکن اس میں پہلے جواب سے یہ فرق ہوگا کہ پہلا جواب تو ایک ایسے اعتراض سے بچنے کے لئے تھا جس کا مورد اسلام میں موجود ہی نہ تھا۔اور یہ جواب ایک ایسی بات پر سے اعتراض ہٹانے کے لئے ہے جو فی الواقع اسلام میں موجود ہے اور صرف وقت کو بچانے کے لئے یا معترض پر یہ بات روشن کرنے کے لئے ہے کہ اس کا اعتراض نیک نیتی