انوارالعلوم (جلد 5) — Page 266
انوار الع ترک موالات اور احکام اسلام وقت آگیا آپ چلے گئے اور میں رہ گیا مگر پھر بھی میں نے سوچا کہ میں بعد میں جائوں گا مگر یہ بھی نہ ہو سکا۔جب آپ واپس تشریف لائے۔منافقوں نے تو جا کر عذر کر دیئے میں نے جو سچ بات تھی وہ کہہ دی۔آپ نے ان کے لئے تو دُعا کر دی اور میری نسبت فرما دیا کہ اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو۔اس کے بعد لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں کوئی بات بنا کر معافی مانگ لوں۔مگر مجھے معلوم ہوا کہ دو اور شخصوں کو بھی یہی حکم ملا ہے اور یہ دونوں مجھے معلوم تھا کہ مخلص مسلمان تھے اس لئے میں نے اس بات سے انکار کر دیا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا۔باقی دونوں گھروں میں بیٹھے رہے مگر میں زیادہ بہادر تھا۔میں نماز مسجد میں جاکرہ پڑھتا تھا اور رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کو بار بار جا کر سلام کہہ کے دیکھتا کہ آپ کے ہونٹ جواب کے لئے ملتے ہیں یا نہیں میں نے دیکھا کہ جب میری آنکھیں آپ کی طرف ہو تیں تو آپ میری طرف نگاہ نہ ڈالتے لیکن جب میری نگاہ دوسری طرف ہوتی تو آپ میری طرف دیکھتے۔ایک دن تنگ آکر اپنے بھائی اور دوست قتادہ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ کیا آپ جانتے نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتا ہوں؟ انہوں نے جواب نہ دیا۔میں نے پھر کہا اور قسم دی مگر پھر جواب نہ دیا۔میں نے پھر کہا اور قسم دی مگر پھر بھی جواب نہ دیا - آخر مجھے مخاطب کئے بغیر یہ کہا کہ اللہ اور اسکے رسول صلی الہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔اس پر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں وہاں سے افسردگی میں واپس آیا۔بازار پہنچاتو کی میرا پتہ پوچھتا ہوا آیا اور ایک خط مجھے دیا جو بادشاہ غسان کی طرف سے تھا اور اس کا مضمون یہ تھا کہ تو کوئی ذلیل آدمی نہ تھا مگر تجھ سے بہت برا سلوک ہوا ہے تو ہمارے پاس آجا ہم تجھے بہت عزت دیں گے یہ میں نے خیال کیا کہ یہ بھی ابتداء ہے اور اس خط کو تنور میں ڈال کر جلا دیا۔جب چالیس دن گزر گئے تو ایک شخص نے آکر مجھ سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ اپنی بیبیوں سے علیحدہ ہو جاؤ۔میں نے دریافت کیا۔طلاق دے دوں یا علیحدہ رہوں ؟ اس نے کہا نہیں علیحدہ رہو۔اس پر میں نے اپنی بیوی کو سیکے بھیج دیا۔میرے دوسرے ساتھیوں کو بھی ایسا ہی حکم ملا تھا۔ان میں سے ہلال ابن امیہ نہایت ضعیف ہو رہے تھے ان کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا تو کوئی نو کر بھی نہیں۔کیا آپ اس کو نا پسند کرتے ہیں کہ میں اس کی خدمت کر دیا کروں ؟ آپ نے فرمایا میرا یہ حکم نہیں کہ تو خدمت نہ کرے بلکہ صرف یہ حکم ہے کہ وہ تیرے قریب نہ جایا کرے۔اس کے بعد پچاس راتیں گزرگئیں تو خدا تعالیٰ کا حکم نازل ہوا اور ہمیں معاف کر دیا گیا۔زبخاری کتاب المغازی باب حديث كعب بن مالك )