انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 267

انوار العلوم جلد ۵ ۲۶۷ ترک موالات اور احکام اسلام یہ حدیث احترام حکومت کے متعلق ہیں کیا تعلیم دیتی ہے ؟ اس حدیث کو دکھو کسی وضاحت سے حکومت کا احترام سکھاتی ہے۔خاوند کوبھی بیوی پر ایک قسم کی حکومت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں پر ناراض تھے چاہتے تو بجائے ان کو کہلا بھیجنے کے کہ تم اپنی بیویوں سے علیحدہ ہو جاؤ بیویوں کو کہلا بھیجتے کہ تم اپنے خاوندوں سے علیحدہ ہو جاؤ۔مگر آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ خاوند کو کہلا بھیجا کہ وہ اپنی بیویوں سے علیحدہ ہو جائیں۔پھر جب ہلال بن امیہ کی بیوی آپ سے پوچھنے گئیں کہ کیا میں خدمت بھی نہ کروں ؟ تو پھر بھی یہ نہیں فرمایا کہ خدمت کر مگر اس کے قریب نہ جا۔بلکہ یہ فرمایا کہ خدمت کر مگر وہ تیرے قریب نہ آوے باوجود اس عورت کے مخاطب ہونے کے حکم کا مخاطب خاوند ہی کو قرار دیا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت پر مرد کے اختیار کا اس قدر لحاظ کیا ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو حکومتوں کے خلاف رعایا کو اکساتے ہیں اور ماں باپ کے خلاف بچوں کو جوش دلاتے ہیں اور اساس تمدن کو توڑتے اور انتظام برباد کرتے ہیں۔ی قسم ترک موالات حکوم کے اختیار یہ ترک موالات حکومت کے اختیار میں ہے قسم میں ہے نہ رعیت کے اختیار میں رعایا کے اختیار میں نہیں ہے اور بلا ان وجوہ کے جن کو شریعت نے بیان کیا ہے ترک موالات کرنے کو رسول کریم صل اللہ علیہ سلم نے منع فرمایا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں لا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدابَرُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخَوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَن يَهْجَرَ أَخَاهُ فَوقَ ثَلاث یعنی ایک دوسرے سے بغض نہ کرو۔ایک دوسرے سے حسد نہ کرد۔ایک دوسرے سے مخالفت اور عداوت نہ کرو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے ہندو بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لئے تعلقات قطع کرے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ افراد کو ان مواقع کے سوا جن میں شریعت نے ترک موالات کا حکم دیا ہے۔تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کا اختیار نہیں۔پس یہ تیسری قسم ترک موالات کی صرف حکومت کے ہاتھ میں ہے وہ حکومت خواہ سیاسی ہو خواہ مذہبی اور یقم حکومت کے خلاف نہیں استعمال کی جاسکتی۔عله بخارى كتاب المغازي حديث كعب من مالك عله مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۱۹۹ ۲۲۵۰