انوارالعلوم (جلد 5) — Page 261
انوار العلوم جلد ۵ 441 ترک موالات اور احکام اسلام طاعة الأمروان منعوا الحقوق ) یعنی اے نبی اللہ ! بتائیے تو سی کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مقرر ہوں جو اپنے حق تو لے لیں اور جو ہمارے حقوق ہیں وہ نہ دیں تو ہم کیا کریں؟ آپ نے پہلے تو اس کے سوال کا جواب نہ دیا لیکن جب اس نے دوبارہ دریافت کیا تو فرمایا کہ ان کی باتیں سنو اور ان کی اطاعت کرو کیونکہ وہ اپنے کئے کی جزاء پائیں گے تم اپنے کنے کی جزاء پاؤ گے۔ان احادیث میں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کا یہ مطلب ہو کہ صرف مسلمان حاکم کی اطاعت کرو اور دوسرے کی نہ کرو۔کوئی شخص کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ کسی خاص ملک یا خاص بادشاہ کے ماتحت رہے لیکن اگر کوئی شخص خود ایک ملک کو چنتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ پھر اس ملک کے آئین کی اطاعت کرے اور حکومت کے خلاف مقابلہ کے لئے کھڑا نہ ہو جائے۔کیا ترک موالات مقابلہ نہیں ؟ شائد بعض لوگ کہہ دیں کہ ترک موالات تو مقابلہ نہیں لیکن ان کو یاد رہے کہ ترک موالات کے حامی اس بات پر خاص طور پر زور دے رہے ہیں کہ یہ ہتھیار گورنمنٹ کو نقصان پہنچانے کے لئے ہے۔پس ان کے اپنے اقوال کے مطابق یہ حملہ ہے کیونکہ حملہ اسے ہی نہیں کہتے کہ جس میں تلوار اُٹھائی جائے۔ہر ایک کام جس سے کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچایا جائے وہ حملہ ہے اور ہمیشہ ایسا کام جب ایسے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جائے جن کے ساتھ اشتراک ہونا جائز ہے ان ہی لوگوں کے خلاف یہ ذریعہ استعمال کیا جاسکتا ہے جن کے ساتھ جنگ ہو۔اور اسلام نہ صرف یہ کہ حکومت کے خلاف جنگ۔۔کرنے سے روکتا ہے بلکہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کا حکم دیتا ہے۔کیا جو شخص خواہ کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے کی فکر میں ہو وہ اس کا مطیع کہلا سکتا ہے ؟ قرآن کریم فتنہ و فساد کی راہوں سے روکتا ہے (۳) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (الاعراف : ٥٧) یعنی زمین میں جب امن قائم ہو جائے تو اسے برباد کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اسی طرح فرماتا ہے کہ والفتنةُ اشَدُّ مِنَ القَتْلِ (البقره : ١٩٢ ) فتنہ قتل سے بھی زیادہ جرم ہے اور زیادہ نقصان رساں ہے۔انگریزوں کے آنے سے امن حاصل ہوا یا نہیں ؟ ترک موالات کے بانی سوچیں کہ کیا انگریزوں کے ہندوستان میں آنے سے پہلے اسی قسم کا امن تھا جیسا کہ آج کل ہے ؟ کیا مذہب کی اسی قسم کی آزادی تھی بجائیں