انوارالعلوم (جلد 5) — Page 97
انوار العلوم جلد ۵ 94 جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں بچوں کی ذمہ داری اسی طرح بچوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ دین کی خدمت سے غافل ندر ہیں۔بے شک ان کے پڑھائی کے دان ہیں۔بلکہ کھیل کے دن ہیں اور جو لڑ کا طالب علمی کے زمانہ میں کھیل چھوڑتا ہے۔وہ نادانی کرتا ہے بلکہ ورزش کرنا تو طالب علمی کے زمانہ کے ختم ہونے کے بعد بھی صحت کے قیام کے لئے ضروری ہے۔مجھے یہ بیماریاں اسی وجہ سے پیدا ہوئیں کہ میں کثرت کام کی وجہ سے ورزش کا خیال نہ رکھ سکا۔تو کھیلنا اور ورزش کرنا بھی ضروری ہے حضرت صاحب کو خواہ کتنا کام ہوتا۔نمازیں جمع ہوتیں۔مگر آپ سیر کے لئے ضرور جاتے۔بلکہ ایک دن میں دودفعہ صبح و شام جاتے ہیں نے آپ کی اس سنت کے خلاف کر کے بہت نقصان اُٹھایا ہے۔اس لئے نوجوانوں کو کہتا ہوں۔من نہ کردم شما حذر بکنید میں نے کام کی کثرت کی وجہ سے ورزش کرنا چھوڑا۔مگر پھر ایسی حالت ہوگئی کہ کام کرنا بالکل ہی چھٹ گیا اور ایک وقت تو میری یہ حالت تھی کہ میں اکیلا باآسانی اتنا کام کر سکتا تھا جتنا چار مضبوط آدمی کر سکتے ہیں مگر پھر یہ حالت ہو گئی کہ میں کسی کتاب کا ایک صفحہ بھی نہ پڑھ سکتا تھا کہ چکر آنے شروع ہو جاتے اب جبکہ سیر شروع کی ہے تو گو پہلی سی طاقت نہیں ہے۔مگر پھر بھی بڑا فرق ہے اور معلوم ہو گیا ہے کہ نیچر کے قواعد کی پابندی بھی ضروری ہے۔تو لڑکوں کے لئے کھیل بھی ضروری ہے۔مگر ان کا بڑا فرض یہ ہے کہ وہ دینداری کا اعلیٰ نمونہ بن کر دکھائیں کیونکہ وہ ایسے لوگوں میں رہتے ہیں جو کفر میں ڈوبے ہوئے ہیں اگر یہ اپنا اعلیٰ نمونہ نہ دکھائیں گے تو دوسرے کہ سکتے ہیں کہ یہ جو زندہ خدا کے ماننے کا دعوی کرتے ہیں ان کی ایسی حالت ہے تو ہمیں خدا کو مان کر کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔پس میں اپنی جماعت کے تمام لوگوں کو خواہ وہ بچے ہیں یا جوان یا عوزری نصیحت خلاصہ تقریر کرتا ہوں کہ اپنے نمونہ سے اور اپنی کوشش سے دین کی اشاعت میں لگ جائیں۔چونکہ آج میرا ارادہ ہے کہ اس وقت جو گاڑی جاتی ہے اس پر جاؤں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ پھر میاں آنے کا موقع ملے یا نہ ملے یا اس طرح سمجھانے کا موقع ملے یا نہ ملے ، اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ جن کو کام کرنے کے لئے کوئی درجہ دیا گیا ہے دوسرے اس درجہ کے لحاظ سے انھیں دیکھیں اور وہ اپنے اندر ایسی تواضع اور انکساری پیدا کریں جیسی کہ اس درجہ کے لئے ضروری ہے۔اسی طرح میں عورتوں، مردوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ صدقہ ا مخلوق خدا سے ہمدردی کرو اور خیرات اور دوسرے طریقوں سے غریبوں، محتاجوں کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔میرے نزدیک وہ عورت یا مردمسلمان نہیں جس کے دل میں کسی غریب کو