انوارالعلوم (جلد 5) — Page xi
انوار العلوم جلد ۵ ساتھ نشانات رکھتا ہے۔نمبر ۲ - گزشتہ کتابوں میں اس نبی کے آنے کی خبریں موجود ہیں۔نمبر ۳۔اور جب دنیا خدا کو چھوڑ کر گمراہی میں مبتلا ہو گی اس وقت ایک ایسا انسان آئے گا جو خود نشان دکھلا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کر دے گا۔حضور نے بتایا ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حالت دیکھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے اُس شاہد (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کوکھڑا کر دیا ہے جس کا قرآن کریم میں وعدہ دیا گیا تھا۔اس ضمن میں حضور نے حضرت میسج موعود علیہ السلام کی صداقت کے تین دلائل سے یہ ثابت فرمایا ہے کہ حضرت مرزا صاحب مسیح موعود نہ جھوٹے تھے، نہ غلطی خوردہ تھے اور نہ ہی آپ کو جنون تھا۔بلکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق اور پیچھے نبی تھے اور جو کامیابی آپ کو نصیب ہوئی یا ہو رہی ہے وہ کسی جھوٹے اور مفتری کو نہیں ہو سکتی۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا اظہار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود کے قیام سیالکوٹ کے دوران اور اپریل ۱۹۲ کو ایک دعوت کے موقعہ پر ایک غیر از جماعت نے حضرت خلیفہ اسیح سے یہ سوال دریافت کیا که حضرت مرزا صاحب کے آنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا فضیلت ظاہر ہوئی۔اس سوال کے جواب میں حضور نے ایک مختصر تقریر ارشاد فرمائی۔حضور کی یہ تقریر محترم خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل نے مرتب کی۔جسے خاتم النبیین کی شان کا اظہار کے عنوان سے محترم محمد یا تین صاحب تاجر کتب قادیان نے دسمبر ۲۶ ۹ہ میں شائع کیا۔حضرت مصلح موعود نے اپنی اس تقریر میں بتایا ہے کہ حضرت مرزا صاحب ریح موعود علیہ السلام) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے آئے تھے اور آپ کے دعاوی سے اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ اول : تمام مذاہب نے آخری زمانہ میں ایک موعود کے آنے کی خبر دی تھی اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ثابت ہو چکا ہے کہ اب اسلام ہی سچا مذہب ہے۔اس لئے اس کے قائم رکھنے کے