انوارالعلوم (جلد 5) — Page x
انوار العلوم جلد ۵ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں تعارف کتب ۲۴ فروری ۱۹۳نہ کو حضرت مصلح موعود نے لاہور سے روانہ ہوتے وقت جماعت احمدیہ لاہور کے مردوں، عورتوں اور طالب علموں سے مخاطب ہو کر ایک تقریر فرمائی۔حضرت مصلح موعود نے اس تقریر میں لاہور کی جماعت کے حالات سے واقفیت کی بناء پر بعض نہایت اہم نصائح اور چند متفرق امور کی طرف احباب جماعت لاہور کی توجہ مبذول کروائی ہے۔حضور نے اپنی اس تقریر میں تین امورا اپنی رائے کا قربان کرنا ، آپس کے معاملات میں طبائع کا لحاظ رکھنا اور جماعتی عہدیداروں یا افسروں کی اطاعت کا خصوصیت سے ذکر فرماتے ہوئے انہیں اجتماع یا اتحاد کے قیام کے لئے بنیادی اور ضروری قرار دیا ہے۔اور احباب جماعت کو نہایت پُر درد انداز میں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ اس زمانہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھیو اور یہ مت سمجھو کہ تم پر کوئی بوجھ پڑا ہوا ہے۔بلکہ یہ مجھو کہ تمہیں دین کی خدمت کا موقعہ ملا ہوا ہے۔پس تم لوگ اس زمانہ کی قدر کر کے دین کی خدمت کرنے کی کوشش کرو تاکہ خدا تعالیٰ کی اس بارش سے تمہارے گھر بھر جائیں جو دنیا کو سیراب کرنے کے لئے اس نے نازل کی ہے؟ اپنی اس تقریر کے آخر میں حضور نے طلباء کو بالخصوص یہ نصیحت فرمائی ہے کہ وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں۔ofs of afs تقریر سیالکوٹ حضرت مصلح موعود کے اپریل 19ء کو قادیان سے سیالکوٹ تشریف لے گئے اور ۱۳ را پریل تک وہاں قیام فرما رہے۔دوران قیام حضور نے۔اور اپریل کو احمدیہ ہال کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے حاضرین سے جو خطاب فرمایا اس جلد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے نشان" کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔حضرت مصلح موعود نے اپنے اس خطاب میں قرآن کریم کی سورۃ ہود آیت نمبر ۱۸ کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے تین نشان بیان فرمائے ہیں کہ نمبر۔یہ رسول اپنے