انوارالعلوم (جلد 4) — Page 67
م جلد ۴ 46 ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط - ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو الہام پا کر اس بات کا ثبوت دیں کہ خدا اب بھی اپنے بندوں کی ربوبیت کرتا ہے ورنہ اس زمانہ کے لوگوں کا حق تھا کہ وہ ان کہتے کہ ہم سے پہلوں کی تو انبیاء بھیج کر ربوبیت کی گئی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری نہیں کی جاتی۔اس اعتراض کو حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے دور کر دیا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ آپ کی صداقت کے ثبوت میں خدا تعالیٰ نے ایسے ایسے نشانات دکھلائے ہیں کہ ان پر غور کرنے والا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔آپ کو غیب کی خبریں بتائی گئیں جو نہایت صفائی کے ساتھ اپنے اپنے وقت پر پوری ہو ئیں اور یہ کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے بلکہ خدا کا ہی کام ہے۔لیکن کس قدر رنج اور افسوس کا مقام ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے مخالفین مین مسلمان آپ کا نام دجال رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو میں کہوں گا کیا دقبال کا کام اسلام کی خدمت کرنا ہے۔مسیلمہ دقبال تھا کیا وہ اسلام کی تائید کرتا اور اسلام کے دشمنوں کے اعتراضوں کو رد کرتا تھا؟ یہ لوگ اپنے دل میں انصاف سے کام لیکر کہیں کہ آج تک جن لوگوں نے جھوٹے دعوے کئے ہیں۔انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں اسلام کی کیا تائید کی ہے۔آپ تو ایسے وقت میں کھڑے ہوئے اور اس وقت اسلام کی تائید کا بیڑا اٹھایا جبکہ لوگ مذہب کو فضول چیز سمجھنے لگ گئے تھے۔قرآن کریم کو لغو سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ امپیریل کو نسل میں ایک مسلمان ممبر نے ایک موقع پر کہا کہ یہ تیرہ سو سال کی پرانی کتاب کیوں ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہے۔یہ کہنے والے وہ صاحب تھے جو مسلم لیگ کے پریذیڈنٹ بن چکے تھے اور مسلمانوں کے قائم مقام کہلاتے ہیں ان کے اس کہنے پر انگریز ممبروں نے بھی نفرت کا اظہار کیا مگر انہیں باوجود مسلمان کہلانے کے کوئی خیال نہ آیا تو اسلام کی یہ حالت ہو گئی تھی۔پھر بہت لوگ تھے جو کہتے تھے کہ قرآن خدا کا کلام نہیں بلکہ محمد ان کے اپنے خیالات ہیں تو ایسے وقت میں حضرت مرزا صاحب نے اسلام کی تائید کا بیڑا اٹھایا جبکہ خود مسلمان اس پر حملہ آور ہو رہے تھے اور جو کچھ غیر کرتے تھے اس کا تو ذکر کرنا بھی نہایت درد انگیز ہے۔ایسے خطرناک وقت میں حضرت مرزا صاحب نے نہ صرف ایک ایسی جماعت پیدا کی جو اسلام کو صحیح طور پر ماننے والی ہے بلکہ غیروں کی طاقت اور ہمت کو توڑ دیا۔چنانچہ کچھ عرصہ ہوا عیسائیوں کی ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ کچھ مدت سے شمالی ہند میں اعلیٰ خاندان کا کوئی شخص عیسائی نہیں ہو تا۔اس کا جواب واقف کاروں نے یہ دیا کہ اس طرف مرزا غلام احمد