انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 66

العلوم خالد بن ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے جس پر چل کر یہ مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے مگر آپ نے تو یہ کہا کہ مجھے جو کچھ حاصل ہوا وہ رسول کریم ﷺ کی اتباع اور آپ کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔اس لئے ثابت ہو گیا کہ یہ اسلام پر چلنے کا نتیجہ ہے۔پھر آپ نے ابتدائی زمانہ میں یہ بھی اعلان شائع کیا تھا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ دنیا تیرا انکار کرے گی اور لوگ شرارت سے کام لیں گے ان پر طاعون کا عذاب آئے گا۔چنانچہ اس اعلان کے پندرہ سال بعد طاعون پھوٹی اور ایسی پھوٹی کہ ابھی تک بند ہونے میں نہیں آتی۔کیا کوئی انسان اس قدر قبل از وقت کوئی بات بتانے کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے پندرہ سال پہلے اپنی طرف سے ایک بات کہہ دی ہو اور وہ پوری بھی ہو جائے انسان کو تو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ ایک منٹ کے بعد کیا ہو گا کہاں اتنے عرصہ کی خبره پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا کی طرف سے آپ کو یہ علم دیا گیا تھا اور اس سے پتہ لگتا ؟ ہے کہ جیسے خدا تعالیٰ پہلے ربوبیت کرتا تھا اب بھی کرتا ہے۔اور یہ بھی کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا ثبوت پیش کرتا ہے۔کوئی کہے کہ یہ تو مان لیا جائے کہ اسلام ربوبیت سے فائدہ اٹھانا انسانوں کا کام ہے میں خدا کی ربوبیت کا ثبوت ملتا ہے لیکن یہ سارے جہانوں کے لئے تو نہ ہوئی۔اس کا جواب یہ ہے کہ سارے جہانوں کے لئے ربوبیت کے ہونے سے یہ ضروری نہیں کہ سارے کے سارے انسان فائدہ بھی اٹھا ئیں۔دیکھئے خدا تعالی نے سورج پیدا کیا ہے اور سب کے لئے پیدا کیا ہے مگر جو آنکھیں بند کر کے بیٹھ رہے وہ اس کی روشنی سے محروم رہے گا اس سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سورج سب کے لئے نہیں ہے۔اسی طرح روحانیت کی بات ہے اسلام کے متعلق تمام لوگوں کے نہ ماننے کی وجہ سے یہ نہیں کہانی جاسکتا کہ سب کے لئے نہیں ہے۔اسلام تو ہر ایک کے لئے ہے آگے جس کی مرضی ہو قبول کرے اور جس کی نہ ہو نہ کرے۔قبول کرنے والوں کو خدا کی معرفت اور قرب حاصل کراتا اور اس کی صفت ربوبیت سے فائدہ حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں ایک کو اس نے نبوت کے درجہ پر کھڑا کیا مگر وہ رسول کریم اللہ کے غلاموں میں سے ایک غلام ہے۔کیونکہ اب کوئی نبی ایسا نہیں آسکتا جو اسلام کا ایک شعثہ بھی کم کرے کیونکہ اسلام کامل ہو چکا ہے اور اس کے بعد اور کوئی شریعت نہیں آسکتی مگر باوجود اس کے رب العلمین کا دعوئی