انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 56

انوار العلوم جلد ) ۵۶ ربوبیت باری تعالٰی ہر چیز پر محیط ہے جاتے ہیں۔ان سے بڑے بڑے کام لئے جاتے ہیں۔پھر گلیوں کے کوڑا کرکٹ کو فروخت کیا جاتا ہے یہ کیوں؟ اس لئے کہ انہوں نے غور و فکر کے ذریعہ معلوم کر لیا ہے کہ ان اشیاء میں بھی فائدے ہیں تو جو لوگ غور کرنے والے ہوتے ہیں وہ ادنیٰ سے ادنی بات سے بھی اعلیٰ سے اعلیٰ نتیجہ نکال لیتے ہیں۔لعلمين ؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کی حمد کرو۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ خدا کیونکر رب ا تمام جہانوں کا رب ہے۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ بہت لوگ نہیں جانتے کہ خدا سب کا رب کس طرح ہے۔میں بتاتا ہوں کہ وہ اس طرح ہے کہ ہر ایک ادنیٰ سے ادنی چیز کا خیال رکھتا اور اس کی پرورش کر کے اسے بڑھاتا ہے۔یہی نہیں کہ وہ انسان کا خیال رکھتا ہے بلکہ انسان کے علاوہ جو بھی چیز ہے اس کا اسے خیال رہتا ہے نہ کہ اسے انسانوں پر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اگر دیگر چیزوں کی ربوبیت انسان کے سپرد کی جاتی تو وہ کبھی اسے سرانجام نہ دے سکتا کیونکہ وہ اپنے ہی نفع اور فائدہ کا خیال رکھتا ہے۔دیکھئے انسان غلہ ہوتا ہے لیکن اگر کھیت میں تمام غلہ ہی غلہ پیدا ہو تا تو بہت کم لوگ ایسے ہوتے جو دوسرے جانوروں کو کھانے کے لئے غلہ دیتے لیکن خدا تعالٰی چونکہ ان کا بھی رب ہے اس لئے اس نے جہاں انسانوں کے لئے ان کی محنت اور کوشش کے مطابق غلہ پیدا کیا ہے۔وہاں اس نے چار پاؤں کے لئے اس مقدار سے جس سے انہوں نے محنت کی اور مشقت اٹھائی ہے تو ڑی بھی پیدا کر دی اور وہ صرف چار پاؤں کے کھانے کے لئے مخصوص کر دی ہے لیکن اگر تو ڑی ایسی ہوتی کہ انسان اسے کھا سکتا تو پھر امید نہ تھی کہ چار پاؤں کو دیتا۔بلکہ خود ہی کھالیتا مگر خدا چونکہ رب العلمین ہے۔وہ جانتا ہے کہ جس طرح انسان میری مخلوق ہے۔اسی طرح بیل وغیرہ بھی میری ہی مخلوق ہے۔اس لئے گیہوں کے ساتھ اس نے توڑی بھی پیدا کر دی۔اسی طرح اور چیزوں کو دیکھو۔قسم قسم کے پھل اور میوے ہیں ان کا ایک حصہ اگر انسانوں کے کھانے کے لئے بنایا گیا ہے تو دوسرا حصہ باریک اور کمزور کیڑوں اور چیونٹیوں کے لئے رکھ دیا گیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسانوں کی ربوبیت کا انتظام کیا ہوا ہے وہاں حیوانوں اور ادنیٰ سے ادنی کیڑوں مکوڑوں کا بھی کیا ہوا ہے۔جب ہم غور کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں تو ساتھ ہی اس طرف بھی توجہ ہوتی ہے کہ جب خدا تعالی ایسا رحیم و کریم ہے اور اس کا اپنی مخلوق سے پیار و محبت ماں باپ سے بھی بہت زیادہ