انوارالعلوم (جلد 4) — Page 55
العلوم جلد ۳ ۵۵ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے کھانا کھانے بیٹھے تو ہر ایک نے کھانے میں سے ایک ایک دو دو لقمہ کھا کر چھوڑ دیا تا ایسا نہ ہو کہ مختلف کھانوں سے پیٹ بھر جائے اور اس لڈو کا مزا پورے طور پر نہ لے سکیں۔جب کھانے سے فارغ ہو چکے تو بھتیجوں نے کہا کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ کل تمہیں ایک لڈو کھلا ئیں گے جسے ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہو گا اب وہ لڈو دیجئے۔اس نے کہا مجھے اپنا وعدہ یاد ہے اور یہ کہہ کر اسی طرح کا ایک لڈو جس طرح کے بازار میں بکتے ہیں نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا۔اسے دیکھ کر لڑکوں کو سخت مایوسی ہوئی اور کہا کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ ایسا لڈو کھلائیں گے جو ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہو گا لیکن اب آپ نے ایک معمولی سالڈو سامنے رکھ دیا ہے یہ کیا بات ہے۔چچا نے کہا۔قلم لے کر حساب کرنا شروع کرو میں بتاتا ہوں کہ اس لڈو کو کتنے آدمیوں نے بنایا ہے۔دیکھو ایک حلوائی نے اسے بنایا ہے پھر اس کے بنانے میں جو چیزیں استعمال ہوئی ہیں ان میں سے ہر ایک چیز کو کئی کئی آدمیوں نے بنایا ہے۔مثلاً شکر ہی کو لے لو اور دیکھو کہ اس کی تیاری پر کتنے ہزار آدمیوں کی محنت خرچ ہوئی ہے کوئی شکر کو ملنے والے ہیں کوئی رس نکالنے والے کوئی نیشکر ہونے والے۔پھر ہل جو تنے پانی دینے حفاظت کرنے والے۔اسی طرح ہل میں جو لوہا اور لکڑی خرچ ہوئی ان کے تیار کرنے والوں کو گھنٹے اسی طرح اگر تم تمام چیزوں کے بنانے والوں کا شمار کرو تو کیا لا کھ سے بھی زیادہ آدمی بنتے ہیں یا نہیں؟ بھتیجوں نے یہ بات سن کر کہا جو آپ کہتے تھے وہ ٹھیک اور درست ہے۔تو بعض باتیں بظاہر چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔لیکن اگر غور و فکر سے کام لیا جائے تو پتے پتے سے خدا تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی اور شان و شوکت جلال اور جبروت، قدرت اور حکمت ظاہر ہوتی ہے۔جن کو خدا نے غور کرنے والا دل و دماغ دیا ہے وہ غور کر کے معمولی سے معمولی چیزوں سے بڑے بڑے عظیم الشان فوائد حاصل کر لیتے ہیں۔چنانچہ ایک زمانہ ایسا تھا کہ جب لوگ کئی ایک چیزوں کو کہہ دیتے تھے کہ یہ ردی ہیں۔کسی کام کی نہیں۔کسی مصرف میں نہیں آسکتیں۔مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایسی قوم جو غور و فکر سے کام لینے والی ہے۔وہ ردی سے ردی اور ادنیٰ سے ادنی چیزوں کو بھی استعمال میں لاکر فائدہ اٹھارہی ہے۔پاخانے سے بڑھ کر اور کیا چیز ردی اور فضول ہو سکتی ہے لیکن اس سے بھی ہزاروں روپے حاصل کئے جاتے ہیں۔ہڈیوں کو فروخت کر کے لاکھوں روپے کما لئے جاتے ہیں۔اسی طرح درختوں کے پتے جنہیں بالکل فضول سمجھا جاتا ہے اور بھڑ بھونج اکٹھا کر کے لے غور کرنے کا نتیجہ