انوارالعلوم (جلد 4) — Page 51
دم جلد ۴ ۵۱ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ربوبیت باری تعالیٰ کائنات کی ہر چیز پر محیط ہے (حضرت فضل عمر خلیفتہ المسیح الثانی کی وہ تقریز جو حضور نے ۹۔اکتوبر ۱۹۱۷ء بمقام پٹیالہ فرمائی) سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنے کے بعد حضور خدا کی عنائتیں اس کی ہستی کا ثبوت ہیں نے فرمایا۔اللہ تعالی جو تمام بنی نوع انسان کا خالق، مالک اور رازق ہے۔اس کی صفات پر جب ہم غور کرتے ہیں ، اس کی عنائتوں اور انعاموں کو جب ہم دیکھتے ہیں ، اس کے فضلوں اور رحمتوں کو جب ہم ملاحظہ کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کا اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس کی عنائتوں، فضلوں اور رحمتوں کا کوئی شمار نہیں ہو سکتا۔جس قدر اس کی صفات پر غور کیا جائے اسی قدر اس کے جلال اور اس کی شان کا زیادہ سے زیادہ علم ہوتا ہے اور معرفت پیدا ہوتی ہے۔مختلف بد اعتقادیاں جو دنیا میں پھیل رہی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر کامل غور نہ کرنے کا ہی نتیجہ ہیں۔دہریت بھی اسی کا نتیجہ ہے۔اس وقت لوگ نئے نئے علوم کے غلط استعمال یا غلط فہمی کی وجہ سے اس طرف چلے گئے ہیں کہ دنیا خود بخود ہے اور اس کا کوئی خالق نہیں ہے۔لیکن اگر یہ لوگ صفات الہیہ پر غور کرتے اور ان زبر دست قدرتوں کا مشاہدہ کرتے جن کا ظہور ہمیشہ ہو تا رہتا ہے تو انہیں ماننا پڑتا کہ ضرور ایک زبر دست عالم ، دانا رحیم و کریم ہستی موجود ہے۔دنیا میں بہت سی اشیاء ایسی ہیں جو نظر نہیں آتیں بلکہ آثار اور علامات سے ان خدا کی ذات کا پتہ لگتا ہے۔مثلا خوشبو ہے جو کبھی کسی کو نظر نہیں آتی اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے گلاب کی خوشبو کو دیکھا ہے یا میں نے اسے سنا ہے یا اسے چکھا ہے لیکن اس سے کسی کو انکار نہیں کہ خوشبو ہوتی ضرور ہے۔پھر دیکھئے انگور کی شیرینی کو کسی نے نہیں دیکھا۔نہ سنا کات