انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 52

انوار العلوم جلدم ۵۲ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے نہ سونگھا ہے۔کسی خوش الحان گویے کی آواز کو کسی نے نہیں دیکھا۔نہ چکھا نہ سونگھا نہ ہاتھ سے ٹولا ہے۔لیکن باوجود اس کے کسی کو انکار نہیں ہے کہ آواز میں خوش الحانی ، پھولوں میں خوشبو ، انگور میں شیرینی ہوتی ہے۔پس یہ ان لوگوں کی غلطی ہے جو نئے علوم کو اچھی طرح اپنے دماغ میں قائم نہیں رکھ سکے اور کہتے ہیں کہ ہم اس چیز کو مانتے ہیں جس کو ہم دیکھتے ہیں۔خدا کو چونکہ ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھا اس لئے ہم اسے مان بھی نہیں سکتے۔حالانکہ انہوں نے کبھی اپنی آواز کو نہیں دیکھا۔کبھی عطر کی خوشبو کو نہیں دیکھا لیکن ان کو مانتے ہیں۔بات یہ ہے کہ بعض ایسی چیزیں ہیں جن کو انسان دیکھ نہیں سکتا بلکہ ان کے آثار سے پتہ لگاتا ہے اور انہیں سے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کونسی چیز اچھی ہے اور کونسی بری گلاب کے پھول کئی قسم کے ہوتے ہیں جن کی خوشبو کو کسی نے نہیں دیکھا۔مگر ان کے سونگھنے سے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کونسا پھول اعلیٰ قسم کا ہے اور کونسا ادنیٰ قسم کا۔یہ تو میں نے ان اشیاء کے متعلق بتایا ہے جن کو حواس خمسہ میں سے کوئی ایک حواس محسوس کر سکتا ہے لیکن کئی ایسی چیزیں بھی ہیں کہ جن کا ان جو اس سے بھی علم نہیں ہو سکتا مثلاً حافظہ ہے۔کبھی کسی نے اسے نہیں دیکھا نہ چکھا نہ سنا نہ ٹولا اور نہ سونگھا ہے لیکن معمولی سے معمولی عقل کا انسان بھی جانتا ہے کہ حافظہ کی ایک طاقت ضرور ہے۔چنانچہ بہت لوگ حکیم یا ڈاکٹروں کو جاکر کہتے ہیں کہ ہمارا حافظہ کمزور ہو گیا ہے۔ہمیں بات یاد نہیں رہتی وغیرہ وغیرہ۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ حافظہ ضرور کوئی شے ہے۔یہ کیوں مانتے ہیں؟ اس لئے کہ انہوں نے حافظہ کے آثار اور علامات دیکھی ہیں۔پس وہ لوگ جنہوں نے خدا کے انکار کی بناء ان حواس خمسہ سے معلوم نہ ہونے پر رکھی ہے ان کی غلطی ہے۔خدا تعالیٰ کی ہستی ان حواس سے بہت بالا ہے اس لئے ان کے ذریعہ اس کو نہیں معلوم کیا جا سکتا۔ہاں اس کے معلوم کرنے کے اور ذریعے ہیں اور وہ اس کی صفات کا ظہور ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ سارے عالم میں خدا تعالیٰ کی صفات کا ظہور اس زور شور سے ہو رہا ہے کہ کوئی دانا اور عقلمند اس سے انکار نہیں کر سکتا اور اس بات کا علم بھی کہ خدا تعالٰی کی کیا کیا صفات ہیں آثار سے ہی ہو جاتا ہے۔جب ہم اس کی قدرتوں پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک ایسی ہستی ہے جو رحیم و کریم ہے ، رازق ہے، خالق ہے، مالک ہے، مارنے اور جلانے کی طاقت رکھتا ہے ، کسی پر ظلم نہیں کرتا کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا وغیرہ۔غرض