انوارالعلوم (جلد 4) — Page 40
انوار العلوم جلدم ۴۰ عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے کی بیوی نہ تھی لیکن انہوں نے کیا کیا؟ نبی کے ماننے سے ہی انکار کر دیا اور تباہ و برباد ہو گئیں۔اگر صرف نبی کی بیوی ہونا کوئی چیز ہوتا تو وہ کیوں نیک نہ ہوتیں خدا سے تعلق نہ پیدا کرتیں اور دین کی خدمت کر کے نہ دکھا ئیں۔لیکن بات یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے احکام پر عمل نہ کیا اس لئے تباہ اور ہلاک ہو گئیں اور ہمارے رسول کریم ﷺ کی بیویوں نے عمل کیا اس لئے انہیں اعلیٰ درجہ حاصل ہو گیا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِ يَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ۷۰) کہ جو ہم تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتا ہے۔اس کے لئے ہم دروازے کھول دیتے ہیں۔پس وہ مرد و عورت جنہوں نے آنحضرت کے وقت کوشش کی۔دین کے لئے گھر سے بے گھر ہوئے۔مال و جان کو خدا کی راہ میں لگا دیا۔اپنے خیالات اور عزیزوں رشتہ داروں، وطن غرضیکہ ہر ایک پیاری سے پیاری چیز کو قربان کر دیا۔ان کو دین میں بھی بڑے بڑے رتبے حاصل ہو گئے اور دنیا میں بھی بڑے بڑے انعام مل گئے۔آج بھی اگر مرد و عورتیں اسی طرح کریں۔خود دین سیکھیں اور عمل کر کے دکھائیں۔دوسروں کو سمجھانے اور عمل کرانے کی کوشش کریں۔دین کے مقابلہ میں کسی چیز کی پرواہ نہ کریں تو ویسی ہی بن سکتی ہیں۔اب میں بعض موٹے موٹے مسائل بیان کرتا ہوں جن کا یاد رکھنا بہت ضروری ہے۔خدا کو ایک سمجھنا اسلام کا سب سے بڑا عقیدہ یہ ہے کہ خدا ہے اور ایک ہے اس عقیدہ کو پھیلانے کے لئے آنحضرت اللہ کو بڑی بڑی تکالیف اٹھانی پڑیں۔مکہ والوں کا ذریعہ معاش چونکہ بہت ہی تھے اور انہیں پر ان کی گزران تھی اس لئے بتوں کو چھوڑنا ان کے لئے بہت مشکل تھا۔جب آنحضرت ا نے بتوں کے خلاف سمجھانا چاہا تو انہوں نے ایک مجلس کی اور ایک آدمی مقرر کیا جو آنحضرت ا کو جاکر کہے کہ آپ اس بات سے باز آجا ئیں۔چنانچہ وہ شخص آپ کے پاس آیا اور آکر کہا کہ اگر آپ کو مال کی خواہش ہے تو ہم بہت سا مال لا کر آپ کے سامنے ڈھیر کر دیتے ہیں۔اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم سب آپ کو حاکم ماننے کے لئے تیار ہیں۔اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ میری بات مانی جائے تو آئندہ ہم آپ کے مشورہ کے بغیر کوئی بات نہیں کریں گے اور اگر آپ کو کوئی بیماری ہو گئی ہے تو ہم اس کا علاج کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن آپ بتوں کے خلاف کہنا چھوڑ دیں۔آنحضرت ا نے فرمایا کہ اگر تم لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو بائیں لاکر رکھ دو تو بھی میں یہ کہنا نہیں