انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 640 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 640

انوار العلوم جلد ۴ ۶۴۰ واقعات خلافت علوی حضرت عائشہ نے کہا کہ ہم میں کوئی عداوت نہیں۔اتناہی اختلاف تھا جتنا رشتہ داروں کا آپس میں ہو جایا کرتا ہے۔یہی بات حضرت علی نے کسی (الکامل في التاريخ لابن الاثير جلد ۳ صفي ۲۵۸ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء) اور اس طرح ان کی بالکل صلح و صفائی ہو گئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جنگ جمل کو بیان کرنے کے بعد حضرت علی اور حضرت معاویہ کی لڑائی کے حالات بیان کئے۔اور مفسدوں کی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں کا ذکر کرتے ہوئے ثابت کیا۔کہ تمام اختلاف اور انشقاق کے بانی یہی لوگ تھے۔جن کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ واقعات کا صحیح طور پر سمجھنا سخت مشکل ہو گیا تھا۔آخر انہی لوگوں نے حضرت علی کے قتل کی سازش کی اور قتل کرا دیا۔ان کے بعد حضرت حسن کو خلیفہ خب کیا گیا لیکن انہوں نے معاویہ کے حق میں دست بردار ہو کر صلح کرلی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تقریر ختم ہونے کے بعد جسے سامعین نے نہایت توجہ اور پورے سکون کے ساتھ سنا۔پریزیڈنٹ صاحب نے حسب ذیل تقریر کی۔حضرات! میں آپ سب صاحبان کی طرف سے حضرت صدر جلسہ کی اختتامی تقریر صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔اس پر زور اور پر از معلومات تقریر کے لئے جو انہوں نے اس وقت ہمارے سامنے کی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ حضرت نے قریباً تین گھنٹے تقریر کی ہے۔اور آپ صاحبان نے ہمہ تن گوش ہو کر سنی ہے۔اس تقریر سے جو وسیع معلومات اسلامی تاریخ کے متعلق معلوم ہوئی ہیں۔ان میں سے بعض بالکل غیر معمولی ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان کی تلاش اور تجس کے لئے کسی وقت بہت سی کتب کا مطالعہ کیا ہو گا مگر میں بلا تامل کہہ سکتا ہوں کہ یہ باتیں محض مطالعہ سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتیں بلکہ اس سعادت بزور نیست بازو بخشند خدائے بخشنده میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس روانی سے کسی نے تاریخی معلومات کو مسلسل بیان کیا ہو۔اور پھر کسی تاریخی مضمون میں ایسا لطف آیا ہو جو کسی داستان گو کی داستان میں بھی نہ آسکے۔اس کے لئے میں پھر شکریہ ادا کرتا ہوں۔اس ضمن میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سوسائٹی جس نے ہمیں ایسے اعلیٰ درجہ کے