انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 621

۶۲۱ تقدیر الهی کہ اس کے لئے تقدیر خاص کے اظہار کی ضرورت نہیں ہوتی انسان اسباب سے کام بھی لیتا ہے اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھتا ہے کہ وہ اس کی محنت کو رائیگاں نہ کرے گا اور غیر معمولی حوادث سے اس کی حفاظت کرے گا۔اس قسم کے توکل میں گو انسان یہ امید کرتا ہے کہ اللہ تعالی غیر معمولی حوادث سے بچانے کے لئے خود اپنے فعل سے بندہ کا کام کر دے گا کہ اس کے اعمال کے نیک نتائج پیدا کرے گا مگر اسباب کو ترک نہیں کرتا۔دوسری قسم تو کل کی یہ ہے کہ انسان اسباب کو بھی ترک کر دیتا ہے مگر یہ تو کل اعمال شریعت کے متعلق نہیں ہوتا۔مثلاً یہ نہیں ہو سکتا کہ انسان نماز یا روزه یا حج یا زکوۃ خدا تعالیٰ کے سپرد کر دے کہ وہ کہے گا تو نماز پڑھ لوں گا یا روزہ رکھوں گا۔بلکہ اس قسم کا تو کل صرف اعمال جسمانی میں ہوتا ہے جو لوگ شرعی احکام کے متعلق ایسا کہتے ہیں وہ جھوٹ کہتے ہیں۔یہ لوگ اباحتی ہوتے ہیں اور انہوں نے شریعت کے احکام سے بچنے کے لئے کئی قسم کے ڈھکوسلے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔مثلاً یہ کہتے ہیں کہ شریعت کے احکام پر عمل کرنا تو ایسا ہے جیسے پار اترنے کے لئے کشتی پر سوار ہونا۔پس یہ کون سی عقل کی بات ہے کہ انسان ہمیشہ کشتی میں ہی بیٹھا ر ہے اور جب منزل مقصود آگئی خدا مل گیا تو پھر کشتی میں ہی کیوں بیٹھا رہے۔لیکن یہ مثال ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے وصال کا ایک مقام نہیں کہ وہاں پہنچ کر اتر جاتا ہے۔اللہ تعالی کی ذات بے پایاں ہے اور اس کے وصال کے بے انتہاء مدارج ہیں۔پس اس کی مثال یہ کہ جیسے دریا کے ساتھ ساتھ ہزاروں لاکھوں شہر بستے ہیں اور کوئی شخص ان سب کی سیر کو چلے۔یہ شخص بیوقوف ہو گا اگر پہلے شہر میں پہنچ کر کشتی سے اتر جاوے کیونکہ پھر اس کے لئے آگے جانا نا ممکن ہو جائے گا۔غرض توکل کا مقام یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دینا کہ وہ جس طرح چاہے اپنی تقدیر خاص بندہ کے متعلق جاری کرے۔لیکن یہ تو کل اعمال شریعت کے متعلق نہیں ہوتا بلکہ اعمال دنیا کے متعلق ہوتا ہے۔جو شخص یہ کہے کہ میں نے اپنی نماز خدا کے سپرد کر دی ہے اب مجھے پڑھنے کی ضرورت نہیں وہ مسلمان نہیں رہ سکتا بلکہ کافر ہو جاتا ہے۔کیونکہ نماز کے متعلق تو خدا تعالیٰ ایک دفعہ حکم دے چکا ہے۔جو کوئی شخص نماز خدا تعالی کے سپرد کرتا ہے وہ حقیقت نماز کا چور ہے۔کیا جو حکم محمد رسول اللہ ا کی معرفت اسے ملا تھا وہ اس کے لئے کافی نہ تھا کہ اب وہ اور احکام کا منتظر رہے۔تو کل صرف ایسے ہی کاموں کے متعلق ہوتا