انوارالعلوم (جلد 4) — Page 604
م جلد ۴ ۶۰۴ وجہ سے اٹھارہے ہیں۔تقدیر دراصل ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی چیز تھی کہ انسانوں کو زندہ کرنیوالی تھی۔مگر افسوس اس کی قدر نہیں جانی گئی اور اس سے وہی سلوک کیا گیا جو قرآن کریم سے کیا گیا ہے۔خداتعالی فرماتا ہے قیامت کے دن رسول کریم ای خدا تعالیٰ کے حضور کہیں گے۔يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ) (الفرقان (۳) کہ خدایا اس قرآن کو میری قوم نے پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا۔اس کے مصداق رسول کریم کے زمانہ کے وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ کو نہ مانا۔مگر مسلمان بھی ہیں اور اصل قوم رسول کریم ﷺ کی یہی ہیں۔وہ قرآن جو ان کی ہدایت کے لئے آیا اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ پر پہنچانے کے لئے آیا ہے اس کو آج کل کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ایک تو اس طرح کہ زندگی بھر تو قرآن کا ایک لفظ ان کے کانوں میں نہیں پڑتا۔لیکن جب کوئی مرجائے تو اس کو قرآن سنایا جاتا ہے۔حالانکہ مرنے پر سوال تو یہ ہوتا ہے کہ بتاؤ تم نے اس پر عمل کیونکر کیا؟ نہ یہ کہ مرنے کے بعد تمہاری قبر پر کتنی دفعہ قرآن ختم کیا گیا ہے۔پھر ایک استعمال اس کا یہ ہے کہ ضرورت پڑے تو آٹھ آنے لے کر اس کی جھوٹی قسم کھالی جاتی ہے اور اس طرح اسے دوسروں کے حقوق دبانے کا آلہ بنایا جاتا ہے۔تیرے اس طرح کہ ملانے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کے وارث قرآن لاتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے اس کے گناہ بخشوا ئیں اور ملا نے ایک حلقہ سا بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور قرآن ایک دوسرے کو پکڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے یہ تیری ملک کی۔وہ اس طرح سمجھتے ہیں کہ مردہ کے گناہوں کا اسقاط ہو گیا۔مگر مردہ کے گناہوں کا کیا اسقاط ہونا تھا ان ملانوں اور اس مردہ کے وارثوں کے ایمانوں کا اسقاط ہو جاتا ہے۔ایک اس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں کہ ملا نے آٹھ آٹھ آنہ کے قرآن لے آتے ہیں۔جب کسی کے ہاں کوئی مرجاتا ہے اور وہ قرآن لینے آتا ہے تو اسے بہت سی قیمت بتا دی جاتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ یہ تو ایک روپے سے بھی کم قیمت کا ہے۔ملاں صاحب کہتے ہیں کہ کیا قرآن سستے داموں بک سکتا ہے؟ تھوڑی قیمت پر تو اس کا بچنا منع ہے۔خود قرآن میں آتا ہے وَلَا تَشْتَرُوا بِأيتِي ثَمَناً قَلِيلاً (البقرۃ : ۴۲) کہ تھوڑی قیمت پر قرآن نہ خرید و اس لئے کہ اس کی تھوڑی قیمت نہیں کی جا سکتی۔مگر وہ نادان نہیں جانتے کہ قرآن نے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْل (النساء: ۷۸) کہ دنیا کا سب مال و متاع قلیل ہے۔اور ثَمَناً قَلِیلاً کے یہ معنی ہیں کہ دنیا کے بدلے اسے نہ بیچو۔