انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 605

۶۰۵ تقدیر الهی پھر ایک استعمال اس کا یہ ہے کہ عمدہ غلاف میں لپیٹ کر دیوار سے لٹکا دیتے ہیں۔پھر ایک یہ کہ مجزدان میں ڈال کر گلے میں لٹکا لیتے ہیں تاکہ عوام سمجھیں کہ بڑے بزرگ اور پار سا ہیں ہر وقت قرآن پاس رکھتے ہیں۔پس جس طرح قرآن کریم کو مسلمان برے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اسی طرح تقدیر کے مسئلہ کے متعلق کرتے ہیں۔چنانچہ ایک استعمال تو اس کا یہ ہوتا ہے کہ اپنی ندامت اور شرمندگی کے مٹانے کے لئے تقدیر کو آڑ بنا لیتے ہیں۔مثلاً کسی کام کے لئے گئے اور وہ نہ ہوا تو اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے کہ لوگ کہیں گے تم تو بڑا دعویٰ کرتے تھے مگر فلاں کام نہ کر سکے۔کہتے ہیں کہ قسمت ہی اسی طرح تھی ہم کیا کرتے؟ جہاں جہاں انہیں کوئی ذلت اور رسوائی پہنچتی ہے اسے قسمت اور تقدیر کے سرمنڈھ دیتے ہیں۔حالانکہ تقدیر ندامت میں غرق کرنے کے لئے نہیں بلکہ ترقیات کے عطا کرنے کے لئے جاری کی گئی ہے۔آگے جو شخص نقصان اٹھاتا ہے وہ تقدیر سے فائدہ نہ اٹھانے کے باعث ہوتا ہے۔پھر اظہار مایوسی کے وقت بھی قسمت کو یاد کر لیتے ہیں۔مثلاً کام کرتے کرتے جب ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ انسان کے لئے بدترین حالت ہے۔کیونکہ مایوسی کا اظہار کرنا نہایت درجہ بزدلی اور دنائت پر دلالت کرتا ہے اور شریف انسان اس سے بچتا ہے۔تو اس وقت اپنی مایوسی اور ناامیدی کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ یہ بات معلوم ہوتا ہے قسمت ہی میں نہیں ہے۔یعنی ہم تو آسمان میں سوراخ کر آدیں لیکن اللہ تعالیٰ نے راستہ روک دیا ہے اور چونکہ اس کا منشاء نہیں اس لئے ہم کوشش چھوڑ دیتے ہیں اس طرح اپنی کم ہمتی اور دنائت کو خدا تعالیٰ کی تقدیر کی آڑ میں چھپاتے ہیں۔اور شرم نہیں کرتے کہ تقدیر کو کس رنگ میں استعمال کر رہے ہیں اور اتنا نہیں سوچتے کہ ان کو کیونکر معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر یوں ہی بہ اس کے ایسے مقرب کب ہوئے کہ وہ ان پر اپنی تقدیروں کا اظہار کرنے لگ گیا۔پھر اپنی سستی کو چھپانے کے لئے اس مسئلہ کا استعمال کرتے ہیں۔اس لومڑی نے تو پھر بھی اچھا کیا تھا جس نے گزرتے ہوئے دیکھا کہ انگور کی بیل کو انگور لگے ہوئے ہیں۔وہ ان کو کھانے کے لئے اچھلی کو دی مگر وہ اتنے اونچے تھے کہ پہنچ نہ سکی اور یہ کہہ کر چل دی کہ تھو۔کھٹے ہیں۔گویا وہ ان کو اس لئے نہیں چھوڑ رہی کہ ان کو پا نہیں سکتی بلکہ ان کے کھٹے ہونے کی وجہ سے چھوڑ رہی ہے مگر یہ اس سے بھی بد تر نمونہ دکھاتے ہیں۔یہ بغیر کسی کام کے لئے کوشش