انوارالعلوم (جلد 4) — Page 585
دم جلد ۴ ۵۸۵ تقدیرانی قتل کر دوں گا۔اس پر حملہ آور اپنی تلوار نیچی کر لے تو یہی اس کا لڑائی سے رجوع سمجھا جائے گا۔اور یہ ضروری نہیں ہو گا کہ وہ بغل گیر بھی ہو جائے۔ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ آتھم کے متعلق رجوع الی الحق کی شرط تھی جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام لائے۔ہم کہتے ہیں کہ رجوع الی الحق کے اندر تو رسول کریم ال کا مقام بھی آجاتا ہے اس کے معنی یہی نہیں ہیں کہ انسان گمراہی سے حق کی طرف آئے بلکہ حق کی طرف بار بار توجہ کرنا بھی رجوع الی الحق کہلاتا ہے تو کیا پھر اس رجوع الی الحق کے یہ معنی کئے جاویں گے کہ آتھم نبیوں کے مقام کو پہنچ جائے تب اسے معاف کیا جائے گا۔دراصل رجوع الی الحق کے کئی درجے ہیں۔مسلمان ہونا حضرت مسیح موعود کو مان لینا، شہداء میں داخل ہونا، صدیق بنا ، مگر یہ بھی رجوع الی الحق ہے جو رسول کریم کو گالیاں دیتا ہو اس کا رک جانا۔اور یہ رجوع الی الحق آتھم نے کیا اور اس کا فائدہ اٹھایا۔اس کے متعلق جو خاص تقدیر جاری ہوئی تھی اسے دوسری تقدیر خاص نے ٹلا دیا اور خدا تعالیٰ کی صفت رحم نے اپنا غلبہ ثابت کر دیا۔بر کے ملنے کا پیشگوئیوں سے تعلق چونکہ پیشگوئیوں سے نبوت کی صداقت کا بہت بڑا تعلق ہوتا ہے اور ان کے ملنے سے دشمنان انبیاء کو شور کا موقع ملتا ہے اور پیشگوئیاں مسئلہ تقدیر کی ہی ایک شاخ ہیں اس لئے میں بتاتا ہوں کہ تقدیر اور پیشنگوئیوں کا کیا تعلق ہے؟ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پیشگوئیاں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ایک علم ازلی کے اظہار کے لئے اور ایک قدرت کے اظہار کے لئے۔تقدیر کے اس پہلو کے نہ سمجھنے کی وجہ سے عام مسلمانوں نے اسی طرح بڑے بڑے دھو کے کھائے ہیں جس طرح تقدیر کے ایک اور پہلو کو نہ سمجھنے سے ہندوؤں نے۔اہل ہنود کا تناسخ کا مسئلہ بھی تقدیر کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔وہ کہتے ہیں ایک بچہ کیوں اندھا پیدا ہوتا ہے ؟ اسی لئے کہ اس نے پہلے کچھ ایسے کام کئے تھے جن کی سزا اسے دی گئی۔حالانکہ بات یہ ہے کہ تقدیر دو قسم کی ہے ایک شرعی اور دوسری طبعی۔وہ کہتے ہیں کہ ایک بچہ لولا لنگڑا کیوں پیدا ہوتا ہے؟ کیا خدا ظالم ہے کہ بلا قصور اس کو عیب دار پیدا کر دیتا ہے؟ اس سے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس نے ضرور کسی پہلے زمانہ میں ایسے عمل کئے ہوں گے جن کی سزا میں اسے ایسا بنایا گیا ہے۔مگریہ دھو کا انہیں دو غلطیوں کی وجہ سے لگا ہے۔اول یہ کہ انہوں نے تقدیر کی اقسام کو نہیں سمجھا۔تقدیر جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں دو قسم کی ہوتی ہے ایک طبعی اور ایک شرعی شرعی تقدیر کا