انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 564

۵۶۴ مختصر طور پر تقدیر کی اقسام بیان کرنے کے بعد اب میں کسی قدر ان کی تقدیر خاص کی تفصیل کی تفصیل بیان کرتا ہوں لیکن چونکہ تقدیر عام خاص قواعد کے ماتحت ہوتی ہے اس لئے اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں تقدیر خاص کی ہی تفصیل بیان کرنی کافی ہوگی۔تقدیر خاص دو قسم کی ہوتی ہے۔بعض اصولی قواعد کے ماتحت خدا تعالیٰ کی طرف سے احکام جاری ہوتے ہیں۔مثلاً یہ ایک قاعدہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر چھوڑا ہے کہ نبی اور نبی کی جماعت اپنے دشمنوں پر غالب آئے گی۔چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔كَتَبَ اللهُ لَا غَلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي (المجادلة: ۲۳) اللہ تعالیٰ نے فرض کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول دشمنوں پر غالب آئیں گے۔اور فرماتا ہے۔وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (الروم:۳۸) یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم مؤمنوں کی مدد کریں۔اب جب کہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کو اپنے دشمنوں پر فتح ہوتی ہے تو اس کو عام شرعی تقدیر کے ماتحت نہیں لا سکتے کیونکہ یہ خاص حکم ہے جو ایک خاص اصل کے ماتحت جاری ہو تا ہے اور بسا اوقات امور طبعیہ اس کے مخالف پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔دوم وہ تقدیر خاص کہ وہ خاص خاص حالات اور خاص اشخاص کے لئے جاری ہوتی ہے اور کسی اصولی قاعدہ کے ماتحت نہیں ہوتی۔اس کی مثال وہ وعدہ ہے جو رسول کریم ال سے فتح مکہ کے متعلق کیا گیا۔رسول کریم ﷺ کے لئے یہ بات تو عام قانون کی رو سے ہی مقدر تھی کہ آپ دشمنوں پر غالب ہوں مگر خدا تعالیٰ نے یہ قانون نہیں بنایا کہ جہاں کوئی نبی پیدا ہو وہاں وہ بادشاہ بھی ہو جائے مگر رسول کریم اے کے لئے یہ خاص حکم جاری کیا گیا کہ آپ اول مکہ سے ہجرت کریں اور پھر اس کو فتح کر کے وہاں کے بادشاہ بنیں۔یہ خاص رسول کریم کے لئے حکم و تھا اور ایسا حکم تھا کہ جب یہ جاری ہو گیا تو خواہ دنیا کچھ کرتی اور ساری دنیا آپ کو مکہ کا بادشاہ بننے سے روکنا چاہتی نہ روک سکتی۔نادان کہتے ہیں کہ چوری خدا کراتا ہے۔ہم کہتے ہیں چوری تو ایسا فعل ہے کہ اس سے لوگ روک بھی سکتے ہیں۔مگر خدا تعالی جو کچھ کراتا ہے اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔رسول کریم ﷺ کو مکہ میں وحی ہوئی۔