انوارالعلوم (جلد 4) — Page 565
۵۶۵ تقدیرانی إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَدِّكَ إِلَى مَعَادٍ (القصص: ۸۲) یعنی وہ پاک ذات جس نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے ضرور تجھے مکہ میں پھر لوٹانے والا ہے۔اس میں دو پیشگوئیاں تھیں۔اول یہ کہ مکہ سے نکلنا پڑے گا اور دوسری یہ کہ پھر واپس آنا ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کوئی اس میں روک نہ بن سکا۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے یہ تقدیر خاص جاری ہوئی کہ ان کے دشمن کے سارے پلوٹھے مارے جائیں گے۔تو یہ عام تقدیر تھی کہ انبیاء غالب ہوں گے مگر یہ کہ فلاں کس طرح غالب ہو گا اور فلاں کس طرح۔یہ خاص تقدیر تھی۔اسی طرح حضرت صاحب سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ قادیان کی ترقی ہوگی اور حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ دس دس میل تک اس کی آبادی پھیل جائے گی اور آپ جانتے ہیں کہ آج جہاں لیکچر ہو رہا ہے یہ جگہ اس جگہ سے جہاں پہلے لیکچر ہوتے تھے قریباً ایک میل پرے ہے تو نبیوں کا جیتنا اور غالب ہونا ایک عام تقدیر ہے جو بعض اصولی قواعد کے ماتحت جاری ہوتی ہے مگر ان کے جیتنے کا طریق ایک خاص تقدیر ہے جو ہر زمانہ کے حالات سے متعلق ہے وہ کسی ایک قاعدہ کے ماتحت جاری نہیں ہوتی۔مثلاً حکم ہو گیا کہ حضرت مرزا صاحب جس جگہ میں رہتے تھے اس کو بڑھا دیا جائے۔اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ آج کل بڑے بڑے شہروں کا رواج ہو رہا ہے اور بڑے شہر دنیا کا فیشن ہو گئے ہیں۔سو اس زمانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے یہی تقدیر خاص ظاہر کی ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ تقدیر جاری کس طرح ہوتی ہے۔کیا تقدیر کا تعلق اسباب سے خدا ایک شخص کی نسبت کہتا ہے کہ جل جائے تو وہ کھڑے کھڑے جل جاتا ہے اور وہیں اس کو آگ لگ جاتی ہے یا اس کے لئے کچھ سامان پیدا ہوتے ہیں؟ اس کے لئے یا د رکھنا چاہئے کہ تقدیر اور اسباب کا تعلق بھی کئی طرح ہوتا ہے۔(۱) تقدیر اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ اسباب شامل ہوتے ہیں۔تقدیر عام طبعی ہمیشہ اسی طرح ظاہر ہوتی ہے جیسے آگ کا لگنا۔آگ جب لگے گی انہی سامان کی موجودگی میں لگے گی جن کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ خاصہ پیدا کیا ہے کہ وہ آگ پیدا کرتے ہیں۔مثلا یہ کہ آگ کی چنگاری کسی ایسی چیز کو لگ جاوے جو جلنے کی قابلیت رکھتی ہے یا یہ کہ دو ایسی چیزوں میں