انوارالعلوم (جلد 4) — Page 446
۴۴۶ ترکی کا مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کی موجودگی میں رحم اور انصاف دل میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔وہ لوگ طبعاً اپنے مذہب یا اپنے خیال کے سوا ہر ایک مذہب اور عقیدہ کو غلط اور جھوٹا سمجھتے ہیں جیسا کہ ہر مذہب کے لوگوں کا حال ہے مگر اسلام کے سوا دو سرے مذاہب سے وہ ڈرتے نہیں ان سے نفرت نہیں کرتے۔وہ ان کے ماننے والوں کو غلطی خوردہ سمجھتے ہیں مگر قابل نفرت نہیں سمجھتے مگر اسلام سے وہ خوف کھاتے ہیں۔اس کی ترقی کو تہذیب و شائستگی کے راستہ میں روک ہی نہیں خیال کرتے بلکہ خود انسانیت کے لئے اسے مُلک یقین کرتے ہیں۔اس لئے وہ جہاں دوسرے مذاہب کے پیروؤں پر رحم کرتے ہیں۔اسلامی حکومتوں کو ناقابل علاج اور متعدی مریضوں کی طرح سوسائٹی اور تہذیب کے لئے ملک خیال کر کے اس کے مٹ جانے یا مٹا دینے کو پسند کرتے ہیں۔کیونکہ کیا اس شخص یا قوم کا جو دوسروں کے لئے بھی ہلاکت کا موجب ہو خود مٹ جانا مناسب نہیں ؟ ضرور ہے۔پس مغربی ممالک کے باشندے فرض منصبی کے طور پر بلکہ باقی دنیا پر رحم کر کے پسند کرتے ہیں کہ یہ خطرناک مرض جو اسلامی حکومت کے نام سے مشہور ہے دنیا سے اٹھ ہی جائے تو بہتر ہے۔یہ میرا خیال ہی نہیں بلکہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں کہ اس کے سوا ترکوں سے خاص سلوک کی کوئی وجہ نہیں۔اور مجھے اس امر کے متعلق خاص علم حاصل ہے کیونکہ میں ایک ایسی جماعت کا امام ہوں جس کا کام ہی تبلیغ اسلام ہے اور جسے اپنے کام کے چلانے کے لئے ہر ایک ملک کے مذہبی حالات معلوم رکھنے پڑتے ہیں۔اور میں یہ دیکھتا ہوں کہ مغربی ممالک میں سے جتنا کوئی مذہب زیادہ آزادی کی طرف قدم اٹھاتا ہے اسی قدر وہ اسلام کا دشمن بن جاتا ہے۔کیونکہ آزادی اسے ہمدردی کی طرف مائل کرتی ہے اور اسلام کی بیخ کنی میں وہ دنیا کی ہمدردی پاتا ہے۔امریکہ اور یورپ میں مسیحیت کی جو حالت ہے وہ پادریوں کے رسالہ پڑھنے سے خوب ظاہر ہو جاتی ہے۔پانچ فیصدی آدمی بھی نہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں فی الواقع مسیحی کہلانے کے مستحق ہوں ایک کثیر حصہ مسیحیت سے متنفر ہے مگر باوجود اس کے وہ دیگر ممالک میں تبلیغ مسیحیت کے لئے کروڑوں روپیہ دیتے ہیں۔صرف اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسیحیت میں داخل ہو جانے سے ان ممالک کے باشندوں کے جسم ظلم سے بچ جاویں گے اور وہ جہالت سے نجات پا جاویں گے نہ اس لئے کہ ان کی روح کو کوئی خاص راحت حاصل ہو جاوے گی۔مگر اسلامی ممالک میں تبلیغ کے کام میں وہ اور بھی جوش سے حصہ حصہ لیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک