انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 442

وم جلد " م سلام سلام ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض سے متفق بھی ہو جاوے تب بھی صلح کی کانفرنس میں صرف برطانیہ ہی کے نمائندہ نہیں بیٹھتے اس میں اور بہت سی طاقتوں کے نمائندہ بھی شامل ہیں۔امریکہ اپنے حق اولیت پر مصر ہے۔فرانس اپنی قربانیوں کو پیش کر رہا ہے۔اٹلی اپنی مظلومیت کا مظہر ہے۔جاپان اور چین خواہ اس سوال سے بے تعلق ہوں مگر چین کو امریکہ کی ہمدردی حاصل کرنی ضروری ہے۔اور امریکہ یونان کے قدیم دعوؤں کی تائید میں اپنا سارا زور لگا رہا ہے۔اور ان حکومتوں میں یہ بحث نہیں کہ ترکوں کو کس قدر ملک دیا جاوے۔بلکہ اس سوال پر بحث ہے کہ ترک اطالین وصایہ کے نیچے رہیں یا یونانی کے حتی کہ ترکوں میں سے ایک جماعت نے اس ڈر سے کہ ہمیں کہیں اٹلی یا یونان کے ماتحت نہ کر دیں خود یہ تحریک شروع کر دی ہے کہ اگر کسی کے زیر حفاظت ہمیں رکھنا ہی ہے تو انگریزوں کے ماتحت رکھو کہ ہمارا دین اور مذہب تو برباد نہ ہو۔پس اتنی اقوام کے مقابلہ میں ایک انگریزی آواز کیا اثر پیدا کر سکتی ہے۔فرانس شام پر قبضہ نہیں کر سکتا جب تک اناطولیہ اٹلی کو نہ دلوائے۔اور امریکہ اپنے معیار انصاف کو ثابت نہیں کر سکتا جب تک کہ ترکوں کو کسی نہ کسی یوروپین حکومت کے وصالیہ میں نہ رکھے۔اگر بلغاریہ کو سمندر تک راستہ دینا ضروری ہے۔تو یونان کو اس کی حق تلفی کے بدلہ میں کوئی نہ کوئی اور علاقہ ملنا واجبات میں سے ہے۔پس ایک انار و صد بیمار کا معاملہ ہے۔برطانیہ کرے تو کیا کرے۔ہم اسے کیا مشورہ دے سکتے ہیں یہی کہ وہ اس امر پر زور دے کہ ترکوں سے بھی انسانوں کا سا سلوک کیا جاوے۔یہ وہ پہلے سے کر رہا ہے۔ترکوں کے علاقہ میں فساد ہونے پر اگر فرانسیسی اخبارات اپنا راستہ صاف کرنے کے لئے سب التزام عربوں پر لگاتے ہیں تو برطانیہ کے اخبارات ہی ہیں جو عربوں کا ساتھ دیتے ہیں۔برطانیہ کو یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے نہ اس مشورہ پر عمل ممکن ہے کہ وہ اس مسئلہ کے متعلق تمام ڈول کو جنگ کی دھمکی دے۔اس کے نقطہ خیال سے یہ بات حد درجہ کی بے شرمی میں داخل ہو گی۔اگر وہ ان اقوام سے جو ابھی ایک سال نہیں گزرا کہ اس کے دوش بدوش اس کے اور تہذیب و تمدن کے دشمنوں سے جنگ کر رہی تھیں ایک ایسی حکومت کے بدلہ جو اس کی دشمن تھی جنگ شروع کر دے۔اور پھر کون سی عقل اس کو تسلیم کر سکتی ہے کہ حکومت برطانیہ باوجود اپنی اس قدر طاقت و عظمت کے اس قدر طاقتوں کے مجموعہ سے جنگ کر سکتی ہے یہ زمانہ حقائق کا ہے تعمیلات سے اس وقت کام نہیں چل سکتا۔پس اگر اس امر میں کامیاب ہونے کی کوئی امید ہو سکتی ہے تو صرف اس طرح کہ ان دیگر