انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 422

دم جلد ۳ ۴۲۲ خطاب جلسہ سالانہ کے امارچ 1414ء ہمارے پاس کیا ہے کچھ بھی نہیں۔لیکن کیا ہمیں اس کا کچھ جواب نہیں دینا چاہئیے ؟ اور اس خون کا بدلہ نہیں لینا چاہئے؟ ضرور لینا چاہئے لیکن اسی طریق سے جو حضرت مسیح موعود نے بتایا ہے اور جو یہ ہے کہ کابل کی سرزمین سے اگر ایک احمدیت کا پودا کاٹا گیا ہے۔تو اب خدا تعالی اس کی بجائے ہزاروں وہاں لگائے گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کے قتل کا بدلہ یہ نہیں رکھا گیا کہ ہم ان کے قاتلوں کو قتل کریں اور ان کے خون بہا ئیں کیونکہ قتل کرنا ہمارا کام نہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے پر امن ذرائع سے کام کرنے کے لئے کھڑا کیا ہے نہ کہ اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کے لئے۔پس ہمارا انتقام یہ ہے کہ ان کے اور ان کی نسل کے دلوں میں احمدیت کا بیج بو ئیں اور انہیں احمدی بنا ئیں۔اور جس چیز کو وہ مٹانا چاہتے ہیں اسکو ہم قائم کر دیں۔لیکن اس وقت تک سید عبد اللطیف کا خون بغیر بدلے کے پڑا ہے۔ان کو خدا تعالٰی نے توفیق دی کہ خدا کی راہ میں اپنی جان دیں اور انہوں نے دی۔ان کے علاوہ اب بھی ہماری جماعت میں سے اسی طرح جان دینے کو تیار ہیں۔اور ہزاروں اس بات پر آمادہ ہیں کہ ان کے تمام اموال ، عزیز اور رشتے دار خدا کی راہ میں قربان ہو جائیں۔مگر میں کہتا ہوں اس کی وقت تک خدا کے لئے جان دینے کا فخر حاصل کس کو ہو سکا۔سید عبد اللطیف صاحب اور ان کے شاگرد کو۔پس ان کو یہ فضلیت حاصل ہو گئی۔مگر اب ہمارا یہ کام ہے کہ ان کے خون کا بدلہ لیں اور ان کے قاتل جس چیز کو مٹانا چاہتے ہیں اسے قائم کر دیں اور چونکہ خدا کی برگزیده جماعتوں میں شامل ہونے والے اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں کہ اپنے دشمنوں پر احسان کرتے ہیں۔اسلئے ہمارا بھی یہ کام نہیں ہے کہ سید عبد اللطیف صاحب کے قتل کرنے والوں کو دنیا سے مٹا دیں اور قتل کر دیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں ہمیشہ کے لئے قائم کر دیں اور ابدی زندگی کے مالک بنا دیں۔اور اس کا طریق یہی ہے کہ انہیں احمدی بنالیں۔لکھا ہے کہ ایک آفیسر نے اپنے ایک ماتحت کو جس کا کوئی قصور نہ تھا یو نہی گالیاں دیں۔اور کہا کہ تو بالکل نکما اور فضول انسان ہے۔اتفاقاً ایک جنگ شروع ہو گئی جس میں اسی افسر کو حکم ہوا کہ فلاں قلعہ کو جا کر فتح کرو۔اس نے اس کے لئے بہت کوشش کی مگر ہر دفعہ اسے شکست ہی ہوئی۔آخر اس نے اعلان کیا کہ کچھ ایسے لوگ تیار ہوں جو یہ سمجھ کر حملہ کریں کہ ہم مرنے کے لئے جا رہے ہیں واپس آنے کے لئے نہیں جا رہے۔یہ اعلان اس نے ایک بار کیا تو کسی نے جواب نہ دیا۔دوسری بار کیا تو بھی کسی نے جواب نہ دیا جب تیسری بار اعلان کیا تو اسی شخص نے اپنے آپ کو پیش کیا جسے اس نے