انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 411

انوار العلوم جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ کے مارچ ۱۹۱۹ء کہ اب دیکھنا چاہئے کہ اس زمانہ میں کسی نبی کی ضرورت ہے یا نہیں اور پھر زمانہ کی موجودہ خطرناک حالت ثابت کر کے بتایا کہ اس وقت پہلے کی نسبت بھی زیادہ ضرورت ہے۔اور حضرت مرزا صاحب اس زمانہ میں خدا کی طرف سے مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔یہ مضمون ۱۹۰۶ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں شائع ہوا۔اور حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول نے اسے پڑھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا۔اور خواجہ صاحب اور محمد علی صاحب کو کہا کہ اس مضمون کو ضرور پڑھو۔پھر مولوی محمد علی صاحب نے رسالہ تشخید الاذہان کا ریویو کرتے ہوئے اس مضمون کے متعلق لکھا اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس" کے صاحبزادہ ہیں اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی۔مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین دلیل کے پیش کرتا ہوں۔جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔خلاصہ مضمون یہ ہے کہ جب دنیا میں فساد پیدا ہو جاتا ہے۔اور لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ کو چھوڑ کر معاصی میں بکثرت مبتلا ہو جاتے ہیں۔اور مردار دنیا پر گدوں کی طرح گر جاتے ہیں۔اور آخرت سے بالکل غافل ہو جاتے ہیں تو ایسے وقت میں ہمیشہ سے خدا تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ انہی لوگوں میں سے ایک نبی کو مامور کرتا ہے کہ وہ دنیا میں کچی تعلیم پھیلائے۔اور لوگوں کو خدا کی حقیقی راہ دکھائے۔پر جو لوگ معاصی میں بالکل نی اندھے ہوئے ہوتے ہیں وہ دنیا کے نشہ میں مخمور ہونے کی وجہ سے یا تو نبی کی باتوں پر جنسی کرتے ہیں اور یا اسے دکھ دیتے ہیں۔اور اس کے ساتھیوں کو ایذا ئیں پہنچاتے ہیں۔اور اس سلسلہ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔مگر چونکہ وہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔اس لئے انسانی کوششوں سے ہلاک نہیں ہوتا۔بلکہ وہ نبی اس حالت میں اپنے مخالفین کو پیش از وقت اطلاع دے دیتا ہے کہ آخر کار وہی مغلوب ہوں گے۔اور بعض کو ہلاک کر کے خدا دو سروں کو راہ راست پر لے آوے گا۔سو ایسا ہی ہوتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔جو ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ایسا ہی اس وقت میں ہوا" اس کے بعد مضمون میں سے کچھ عبارت نقل کر کے لکھا کہ ” میں نے اس مضمون کو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ خصوصاً اس وجہ سے نہیں ٹھرایا کہ ان دلائل کو کوئی مخالف توڑ نہیں دلائل پہلے بھی کئی دفعہ پیش ہو چکے ہیں۔مگر اس دلیل میں سے جو دلیل میں سلسلہ کی سکتا۔