انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 410

رالعلوم جلد ۴۱۰ خطاب جلسه سالانه ۱۷ مارچ ۶۱۹۱۹ اگر وہ اس سے باز آجائیں۔تو گو ہم نے پہلے ہی روکا ہوا ہے اب اور بھی تاکید کر دیں گے۔لیکن اس کے سوا ان کی شرائط میں اور کوئی بات نہیں جو قابل قبول ہو۔میں آپ لوگوں کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس دفعہ میں نے بعض مصالح کے لحاظ سے گو شرح صدر نہ تھا انہیں اپنے جلسہ میں بولنے کا موقع دیا ہے۔اگر چہ ہمارے جلسے تعلیمی ہوتے ہیں۔اور پھر یہ حضرت مسیح موعود کی مقدس پیج ہے۔اس پر باغیوں کو بولنے کا موقع دینا مناسب نہ تھا۔مگر اس خیال سے کہ وہ کہتے رہتے ہیں کہ ہماری باتیں سننے کا موقع نہیں دیا جاتا۔میں نے کہا آج وہ اس خواہش کو بھی پورا کرلیں۔تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کے حملے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔اور پوری طرح ہماری جماعت سے نا امید ہو جاویں۔چنانچہ انہوں نے اس کو دیکھ لیا ہے۔میں نے بہت دفعہ بڑا غور اور فکر کیا ہے۔لیکن میری سمجھ میں یہ عقائد کس نے بدلے نہیں آتا کہ ان کا جھگڑا ہی ہم سے کیوں ہے۔میں نے ایک بات ان میں سے کئی آدمیوں سے پوچھی ہے۔جس کا مجھے کسی نے جواب نہیں دیا۔اور وہ یہ ہے کہ تم بتاؤ مولوی محمد علی صاحب کے مضامین میں حضرت مسیح موعود کو نبی لکھا جاتا رہا ہے یا نہیں وہ کہتے ہیں ہاں لکھا جاتا رہا ہے مگر اس سے مراد مجدد محدث اور غیر نبی تھی۔ہم کہتے ہیں اچھا یہی سی اس کے متعلق بعض دوست اس طرف گئے ہیں کہ ان کی یہ مراد نہیں ہو سکتی۔اور یہ بات تو ان کے مضامین سے ثابت ہے کہ یقینا ان کی مراد ایسا ہی نبی اور رسول تھی جیسا ہم مانتے ہیں تاہم ہم کہتے ہیں اچھا وہی مراد سہی جو تم لوگ کہتے ہو۔مگر یہ تو بتلاؤ کہ اب کیوں اسی مراد کو مد نظر رکھ کر وہ حضرت مسیح موعود کو نبی نہیں لکھتے۔یہ بڑی آسان راہ فیصلہ کی ہے۔اگر اس وقت حضرت مسیح موعود کو نبی لکھنے میں کوئی حرج نہ تھا تو اب بھی لکھتے رہو اور اس سے مراد مجدد لو۔پھر جھگڑا ہی کیا ہے اور اختلاف ہی کیا۔لیکن چونکہ اب اس لفظ کا لکھنا تم لوگوں نے چھوڑ دیا ہے۔اس لئے معلوم ہوا اسے جن معنوں میں تم پہلے استعمال کرتے تھے انہی کو چھوڑ دیا ہے۔یہ ایک موٹی بات ہے۔تمہارا اب حضرت مسیح موعود کو نبی نہ لکھنا جتاتا ہے کہ پہلے اس لفظ سے جو تمہاری مراد ہوتی تھی اس کو تم نے بدل دیا ہے۔لیکن ہم جیسے پہلے لکھتے تھے اب بھی اسی طرح لکھتے ہیں۔دیکھو تشخیذ الاذہان رسالہ جب جاری ہوا تو میں نے اس کے ایڈیٹر کی حیثیت سے انٹروڈکشن لکھا۔جس میں پہلے انبیاء اور ان کے مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے لکھا