انوارالعلوم (جلد 4) — Page 406
لوم جلد ۴ کے متعلق واقفیت ہو جائے گی۔۲۰۶ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ اس کے بعد میں اپنے دوستوں کو ایک خاص امر کے متعلق کچھ غیر مبائعین کے متعلق سنانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ان دنوں ان لوگوں کی طرف۔جنہوں نے مرکز سلسلہ سے علیحدہ ہو کر لاہور کو اپنا مرکز بنا لیا ہے ہمیں صلح کا پیغام دیا گیا ہے۔اور بظاہر اس سے بڑھ کر اور کیا چیز خوشی کا موجب ہو سکتی ہے کہ آپس میں صلح ہو جائے۔لیکن اگر غور سے دیکھا جاوے تو یہ صلح کا پیغام اپنے اندر ہزاروں فسادوں کے بیج رکھتا ہے۔اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بہت دفعہ بعض ظاہر میں اچھی نظر آنے والی چیزیں باطن میں مضر ہوتی ہیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہ کی صبح کی نماز رہ گئی۔اس پر وہ اٹھکر اتنا روئے اتنا روئے کہ شام تک روتے رہے۔اور اسی حالت میں رات کو سو گئے۔صبح ابھی اذان بھی نہ ہوئی تھی کہ انہوں نے رویا میں دیکھا ایک آدمی کہہ رہا ہے اٹھ نماز پڑھ۔انہوں نے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں ابلیس ہوں۔انہوں نے کہا تو کیوں جگانے آیا ہے۔اس نے کہا۔کل مجھ سے غلطی ہو گئی کہ تمہیں سلائے رکھا۔جس پر تم اتنا روئے کہ خدا نے کہا اسے ستر نمازوں کا ثواب دو۔آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں کہ تمہیں ایک ہی نماز کا ثواب ملے سنٹر کا نہ ملے۔تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو چیز ا چھی نظر آتی ہے وہ در حقیقت اپنے اندر برائی کا بیچ رکھتی ہے۔چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے جو شرائط پیش کی گئی ہیں وہ ایسی ہی ہیں کہ بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہیں مگر باطن میں زہر ہیں۔ظاہر میں تو یہ شرائط ایسی ہی اعلیٰ معلوم ہوتی ہیں جیسی عیسائیوں کی یہ تعلیم ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو۔مگر جب ان کی حقیقت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سخت نقصان رساں ہیں۔ایک شرط یہ ہے کہ ایک دوسرے کے متعلق سخت کلامی نہ ہو اس کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ آپس کی سخت کلامی کب سے شروع ہوئی۔کہتے ہیں الفضل میں فلاں سخت مضمون چھپا۔ہم تو پوچھتے ہیں کیوں چھپا اور اس کی کیا وجہ تھی۔یہی معلوم ہو گا کہ پیغام نے فلاں مضمون لکھا تھا۔اس کا جواب دیا گیا۔اسی طرح اگر اس کو چلاتے جاؤ تو معلوم ہو جائیگا کہ سب سے پہلے کس نے سخت لکھا۔اور وہ پیغام ہی ہو گا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے اخباروں نے بہت کم لکھا ہے۔وجہ یہ کہ میں نے انہیں روکے رکھا ہے۔اور جس طرح اگر گھوڑے کو زور سے روکیں تو اس کے مونہہ سے خون نکل آتا ہے۔اسی طرح ہمارے بعض اخباروں کے ایڈیٹروں کا حال ہوا۔کہ وہ -