انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 7

انوار العلوم جلد اطاعت او اشناسی جماعت کو متوجہ نہیں کیا۔پس حضرت صاحب کا اس طرف توجہ دلانا اور اس زور کے ساتھ توجہ ولانا اس آیت کے ماتحت ہونے کی وجہ سے گویا اللہ اور اس کے رسول کا ہی توجہ دلانا ہے۔اس سے سمجھ لو کہ اس طرف توجہ کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔بہت لوگ نادانی سے اولی الامر منکم کے معنی یہ کرتے ہیں کہ اس میں اس حاکم کی اطاعت کا ر ہے جو اپنے مذہب کا ہو کیونکہ مِنكُمْ کے معنی ”تم میں سے " ہیں اور جب کوئی ہم میں سے ہوگا تو مسلمان ہی ہو گا۔مگر یہ معنی درست نہیں ہیں کیونکہ دوسری کئی جگہ خدا تعالیٰ نے معاہدات کی پابندی اور معاملات کے اچھا اور عمدہ رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن کیسی تعجب اور حیرانی کی بات ہوگی اگر اس آیت میں صرف اپنے ہم مذہب حکمرانوں کی اطاعت کا حکم ہو اور دوسروں سے بغاوت اور غداری کو روا رکھا گیا ہو۔کیا دوسری آیات پر عمل کرنا بھی چھوڑ دیا جائے گا یا ان کے لئے منافقت اختیار کی جائے گی۔پھر اگر منکم کے یہی معنی لئے جائیں کہ "تم میں سے " تو پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس سے مراد اپنی قوم کا حاکم ہے جب ہماری قوم کا کوئی حاکم ہو گا اس وقت اس کی کوئی بات مانیں گے دوسرے کی نہیں مانیں گے۔مثلاً سید کہیں کہ ہم اسی حاکم کو مانیں گے جو سید ہو۔مغل کہیں ہم اسی افسر کی بات قبول کریں گے جو مغل ہو۔اور ہر قوم کے لوگ یہی کہیں تو کیا اس طرح دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے یا کوئی حکومت قائم رہ سکتی ہے۔ہر گز نہیں۔پھر ایک گھرانہ کے لوگ کہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی حاکم ہو گا تو اس کی مانیں گے اور کی نہیں مانیں گے۔اسی طرح ایک گھر کے لوگ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے ہی گھر کے حاکم کی مانیں گے اس طرح تو ایسی ابتری پھیلتی ہے کہ کوئی انتظام قائم ہی نہیں رہ سکتا اس لئے اس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے۔ہاں اگر اس کے عام معنی لئے جائیں تب مطلب درست ہو سکتا ہے ورنہ اپنے مرکز سے اس لفظ کے معنوں کو ہٹا کر کوئی معنی بن ہی نہیں سکتے اور کسی آیت کے ایسے معنی کرنے جن کا کوئی مطلب ہی نہ ہو کسی مؤمن کا کام نہیں ہو سکتا۔مؤمن کا تو یہ کام ہے کہ جو معنی وسیع اور اعلیٰ مطالب ظاہر کرنے والے ہوں ان کو بیان کرے۔چنانچہ یہ بات تمام فرقوں کے مفسرین کے نزدیک مسلم ہے کہ وہ کہتے ہیں جو عام لفظ ہو اس کے معنی عام ہی کرنے چاہئیں۔تو منکم کے جو وسیع معنی ہیں وہ لئے جائیں گے اور وہ یہ ہیں کہ انسانوں میں خواہ کسی مذہب یا قوم کا حاکم ہو اس کی اطاعت کرنی چاہئے۔یامین کے معنی علی