انوارالعلوم (جلد 4) — Page 291
لوم جلد ۴ ۲۹۱ اسلام میں اختلافات کا آغاز دانائی سے ایک دفعہ پھر ان کے عذرات کو توڑ دیا اور ابو موسیٰ اشعری " کو والی مقرر کر کے فورا ان لوگوں کو اطلاع دی۔سعید بن العاص کے واپس چلے جانے اور ان کے ارادوں سے اہل مدینہ کو اطلاع دے دینے سے ان کی امیدوں پر پہلے ہی پانی پھر چکا تھا اور یک دم مدینہ پر قبضہ کر لینے کے منصوبے جو سوچ رہے تھے باطل ہو چکے تھے اور یہ لوگ واپس ہونے پر مجبور ہو چکے تھے۔اب ابو موسیٰ اشعری کے والی مقرر ہونے پر ان کے عذرات بالکل ہی ٹوٹ گئے۔کیونکہ یہ لوگ ایک مدت سے ان کی ولایت کے طالب تھے۔ابو موسیٰ اشعری کو جب معلوم ہوا کہ ان کو کوفہ کا والی مقرر کیا گیا ہے تو انہوں نے سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ اے لوگو! ایسے کاموں کے لئے پھر کبھی نہ نکلنا اور جماعت اور اطاعت کو اختیار کرو اور صبر سے کام لو اور جلد بازی سے بچو۔کیونکہ اب تم میں ایک امیر موجود ہے یعنی میں امیر مقرر ہوا ہوں۔اس پر ان لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں نماز پڑھا ئیں تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔اور فرمایا کہ نہیں یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔جب تک تم لوگ حضرت عثمان کی کامل اطاعت حاکم وقت کی اطاعت ضروری ہے اور ان کے احکام کے قبول کرنے کا اقرار نہ کرو گے میں تمہارا امام جماعت نہیں بنوں گا۔اس پر ان لوگوں نے اس امر کا وعدہ کیا کہ وہ آئندہ پوری طرح اطاعت کریں گے اور ان کے احکام کو قبول کریں گے تب حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ان کو نماز پڑھائی۔اسی طرح حضرت ابو موسیٰ نے ان کو کہا کہ سنو میں نے رسول کریم سے سنا ہے کہ جو کوئی ایسے وقت میں کہ لوگ ایک امام کے ماتحت ہوں ان میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اور ان کی جماعت کو پراگندہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جاوے اسے قتل کر دو خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو۔(مسلم کتاب الامارة باب حكم من فرق المسلمين و هو مجتمع) اور رسول كريم نے امام کے ساتھ اس کے عادل ہونے کی شرط نہیں لگائی یعنی تم لوگ یہ نہیں کہہ سکتے حضرت عثمان عادل نہیں۔کیونکہ اگر یہ مان لیا جاوے تو بھی تمہارا یہ فعل جائز نہیں۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے عادل کی شرط نہیں لگائی بلکہ صرف یہ فرمایا ہے کہ لوگوں پر کوئی حاکم ہو۔یہ خیالات ہیں ان لوگوں کے جنہوں نے اپنی عمریں خدمت اسلام کے لئے خرچ کر دی تھیں اور جنہوں نے اسلام کو آنحضرت ا کے منہ سے سنا تھا اور آپ کے سامنے ان پر