انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 279

انوار العلوم جلد ۴ ۲۷۹ دی اور وہ شخص واپس عبدالرحمن بن خالد کے پاس چلا گیا۔اسلام میں اختلافات کا آغاز اس شخص کے عبدالرحمن بن خالد کے پاس ہی رہنے کی خواہش سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس کا دل ضرور صاف ہو چکا تھا۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تا تو وہ ایسے آدمی کے پاس جو شرارت کو ایک منٹ کے لئے روا نہ رکھتا تھا واپس جانے کی خواہش نہ کرتا۔مگر بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی توبہ بالکل عارضی تھی اور حضرت معاویہ کا یہ خیال درست تھا کہ یہ بے وقوف لوگ ہیں اور صرف ہتھیار بن کر کام کر سکتے ہیں عبد اللہ بن سبا اس عرصہ میں خاموش نہ بیٹھا ہوا تھا بلکہ اس نے کچھ مدت سے یہ رویہ اختیار کیا تھا کہ اپنے ایجنٹوں کو تمام علاقوں میں بھیجتا اور اپنے خیالات پھیلا تا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخص غیر معمولی عقل و دانش کا آدمی تھا۔وہ احکام جو اس نے اپنے ایجنٹوں کو دیئے اس کے دماغ کی بناوٹ پر خوب روشنی ڈالتے ہیں۔جب یہ اپنے نائب روانہ کرتا تو ان کو ہدایت دیتا کہ اپنے خیالات کو فور الوگوں کے سامنے نہ پیش کر دیا کرو بلکہ پہلے وعظ و نصیحت سے کام لیا کرو۔اور شریعت کے احکام لوگوں کو سنایا کرو۔اور اچھی باتوں کا حکم دیا کرو اور بری باتوں سے روکا کرو۔جب لوگ تمہارا یہ طریق دیکھیں گے تو ان کے دل تمہاری طرف مائل ہو جائیں گے اور تمہاری باتوں کو شوق سے سنا کریں گے اور تم پر اعتبار پیدا ہو جائے گا۔تب عمدگی سے ان کے سامنے اپنے خاص خیالات پیش کرو وہ بہت جلد قبول کر لیں گے۔اور یہ بھی احتیاط رکھو کہ پہلے حضرت عثمان کے خلاف باتیں نہ کرنا۔بلکہ ان کے نائبوں کے خلاف لوگوں کے جوش کو بھڑ کا نا۔اس سے اس کی غرض یہ تھی کہ حضرت عثمان سے خاص مذہبی تعلق ہونے کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف باتیں سن کر بھڑک اٹھیں گے۔لیکن امراء کے خلاف باتیں سننے سے ان کے مذہبی احساسات کو تحریک نہ ہوگی اس لئے ان کو قبول کر لیں گے۔جب اس طرح ان کے دل سیاہ ہو جائیں گے اور ایک خاص پارٹی میں شمولیت کر لینے سے جو ضد پیدا ہو جاتی ہے وہ پیدا ہو جاوے گی تو پھر حضرت عثمان کے خلاف ان کو بھڑکانا بھی آسان ہو گا۔اس شخص نے جب یہ دیکھا کہ والیان صوبہ جات کی برائیاں جب کبھی بیان کی جاتی ہیں تو سمجھ دار لوگ ان کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنے مشاہدہ کی بناء پر ان شکایات کو جھوٹا اور بے حقیقت جانتے ہیں اور ملک میں عام جوش نہیں پھیلتا۔تو اس نے ایک اور خطرناک تدبیر اختیار کی اور وہ یہ کہ اپنے نائیوں کو حکم دیا کہ بجائے اس کے کہ ہر جگہ کے