انوارالعلوم (جلد 4) — Page 280
انوار العلوم جلد ۴ ۲۸۰ اسلام میں اختلافات کا آغاز گورنروں کو انہی کے علاقوں میں بدنام کرنے کی کوشش کریں ان کی برائیاں لکھ کر دوسرے علاقوں میں بھیجیں۔کیونکہ دوسرے علاقوں کے لوگ اس جگہ کے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے ان کی باتوں کو آسانی سے قبول کر لیں گے۔چنانچہ اس مشورہ کے ماتحت ہر جگہ کے مفسد اپنے علاقوں کے حکام کی جھوٹی شکایات اور بناوٹی مظالم لکھ کر دوسرے علاقوں کے ہمدردوں کو بھیجتے اور وہ ان خطوں کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے اور بوجہ غیر ممالک کے حالات سے ناواقفیت کے بہت سے لوگ ان باتوں کو سچ یقین کر لیتے اور افسوس کرتے کہ فلاں فلاں ملک کے ہمارے بھائی سخت مصیبتوں میں مبتلاء ہیں اور ساتھ شکر بھی کرتے کہ خدا کے فضل سے ہمارا والی اچھا ہے ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔اور یہ نہ جانتے کہ دوسرے ممالک کے لوگ اپنے آپ کو آرام میں اور ان کو دکھ میں سمجھتے اور اپنی حالت پر شکر اور ان کی حالت پر افسوس کرتے ہیں۔مدینہ کے لوگوں کو چونکہ چاروں اطراف سے خطوط آتے تھے۔ان میں سے جو لوگ ان خطوط کو صحیح تسلیم کر لیتے وہ یہ خیال کر لیتے کہ شاید سب ممالک میں ظلم ہی ہو رہا ہے اور مسلمانوں پر سخت مصائب ٹوٹ رہے ہیں غرض عبد اللہ بن سبا کا یہ فریب بہت کچھ کار گر ثابت ہوا۔اور اسے اس ذریعہ سے ہزاروں ایسے ہمد رد مل گئے جو بغیر اس تدبیر کے ملنے مشکل تھے۔جب یہ شورش حد سے بڑھنے لگی۔اور صحابہ کرام کو بھی ایسے خطوط ملنے لگے جن میں گورنروں کی شکایات درج ہوتی تھیں تو انہوں نے مل کر حضرت عثمان سے عرض کیا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔انہوں نے فرمایا کہ جو رپورٹیں مجھے آتی ہیں وہ تو خیر و عافیت ہی ظاہر کرتی ہیں۔صحابہ نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اس اس مضمون کے خطوط باہر سے آتے ہیں اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔حضرت عثمان نے اس پر ان سے مشورہ طلب کیا کہ تحقیق کس طرح کی جاوے۔اور ان کے مشورہ کے مطابق اسامہ بن زید کو بصرہ کی طرف محمد بن مسلم کو کوفہ کی طرف عبد اللہ بن عمرؓ کو شام کی طرف عمار بن یا سر کو مصر کی طرف بھیجا کہ وہاں کے حالات کی تحقیق کر کے رپورٹ کریں کہ آیا واقع میں امراء رعیت پر ظلم کرتے ہیں اور تعدی سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کے حقوق مار لیتے ہیں۔اور ان چاروں کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی متفرق بلاد کی طرف بھیجے تاکہ وہاں کے حالات سے اطلاع دیں۔(طبری جلد نمبر4 صفحہ ۲۹۴۳ مطبوعہ بیروت) یہ لوگ گئے اور تحقیق کے بعد واپس آکر ان سب نے رپورٹ کی کہ سب جگہ امن ہے