انوارالعلوم (جلد 4) — Page 251
وم جلد ۴ ۲۵۱ اسلام میں اختلافات کا آغاز لیکن انہوں نے ایسے لوگوں کی روایتوں کو سچا سمجھ کر جنہوں نے اسلام اچھی طرح قبول نہیں کیا تھا اور صرف زبانی اقرار اسلام کیا تھا اور پھر ایسے لوگوں کی تحقیقات پر اعتبار کر کے جو اسلام کے سخت دشمن اور اس کے مثانے کے درپے ہیں ایسی باتوں کو تسلیم کر رکھا ہے جن کے تعلیم کرنے سے لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ صحابہ کی جماعت نعوذ باللہ تقویٰ اور دیانت سے بالکل خالی تھی۔یہ میں اپنے بیان میں اس امر کا لحاظ رکھوں گا کہ تاریخیں وغیرہ نہ آئیں تاکہ سمجھنے میں دقت نہ ہو اور مضمون پیچ دار نہ ہو جائے۔کیونکہ میرے اس لیکچر کی اصل غرض ابتدائے اسلام کے بعض اہم واقعات سے کالجوں کے طلباء کو واقف کرنا ہے۔اور اسی وجہ سے ہی عربی عبارات سے کے بیان کرنے سے بھی حتی الوسع اجتناب کروں گا اور واقعات کو حکایت کے طور پر بیان کروں گا۔یہ بات تمام تعلیم یافتہ اختلافات کا ظہور خلیفہ ثالث کے زمانہ میں کیوں ہوا؟ مسلمانوں پر روشن ہوگی کہ مسلمانوں میں اختلاف کے آثار نمایاں طور پر خلیفہ ثالث کے عہد میں ظاہر ہوئے تھے۔ان سے پہلے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے عہد میں اختلاف نے کبھی سنجیدہ صورت اختیار نہیں کی۔اور مسلمانوں کا کلمہ ایسا متحد تھا کہ دوست و دشمن سب اس کے افتراق کو ایک غیر ممکن امر خیال کرتے تھے اور اسی وجہ سے عموماً لوگ اس اختلاف کو خلیفہ ثالث کی کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔حالانکہ جیسا میں آگے چل کر بتاؤں گا واقعہ یوں نہیں۔حضرت عمرؓ کے بعد تمام صحابہ رضی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی حالات اللہ عنہم کی نظر مسند خلافت پر بیٹھنے کے لئے حضرت عثمان " پر پڑی۔اور آپ اکابر صحابہ" کے مشورہ سے اس کام کے لئے منتخب کئے گئے۔آپ رسول کریم ﷺ کے داماد تھے اور یکے بعد دیگرے آنحضرت ﷺ کی دو بیٹیاں آپ سے بیاہی گئیں۔اور جب دوسری لڑکی آنحضرت اللہ کی فوت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اسے بھی حضرت عثمان سے بیاہ دیتا۔اس سے معلوم ا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نظر میں آپ کو خاص قدر و منزلت حاصل تھی۔آپ اہل مکہ کی نظر میں نہایت ممتاز حیثیت رکھتے اور اس وقت ملک عرب کے حالات کے مطابق مالدار