انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 214

العلوم بالدم ۲۱۴۴ حقیقت وحی کے معنی کرنے میں تردد کا نام آپ شیطانی اور رحمانی وحی قرار دینے میں تردد رکھتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو آپ کو نعوذ باللہ یہ بھی کہنا پڑے گا کہ حضرت مسیح موعود کو بھی نعوذ باللہ اسبات میں تردد تھا کہ آپ کو شیطانی وحی ہوتی تھی یا رحمانی کیونکہ آپ بارہا الہامات کے معنے کرنے میں تردد اور احتیاط سے کام لیتے تھے۔اسی طرح آنحضرت ﷺ کی نسبت بھی ثابت ہے کہ آپ نے ہجرت کے متعلق بشارت کے معنے کرنے میں تردد سے کام لیا کہ فلاں مقام ہے یا فلاں۔پس خدارا آپ میری عداوت میں ایسے اصول نہ قرار دیں کہ جن سے آنحضرت اور حضرت مسیح موعود پر بھی الزام لگتا ہو اور ان کی ہتک ہوتی ہو۔تعجب ہے کہ آپ نے التزام تو مجھے اور میرے مریدوں کو دیا تھا مگر خود ایک ایسے اصل کے بانی ہو گئے کہ جس سے آنحضرت ا اور حضرت مسیح موعود دونوں پر الزام آتا ہے۔مولوی صاحب! پھر آپ یہ بھی تو خیال فرما دیں کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کا دعوی مسیح موعود ہونے کا تھا۔اور سنئے حضرت مسیح موعود اپنے اس دعوئی کے متعلق فرماتے ہیں پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی۔مگر میں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین میں لکھ دیا۔میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکر اسی کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد دید سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسی کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔پس جب اس بارہ میں انتہاء تک خدا کی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہوا کہ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے اور بہت سے نشان مجھے دیئے گئے اور میرے دل میں روز روشن کی طرح یقین بٹھا دیا گیا تب میں نے یہ پیغام لوگوں کو سنا دیا۔" اعجاز احمدی صفحه ۹ - ۱۰ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۹ صفحه ۱۱۳-۱۱۴) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ آپ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ آپ کو مسیح موعود قرار دے چکا تھا ان الہامات کی جن میں آپ کو مسیح موعود کہا گیا تھا بارہ برس تک تاویل کرتے 1