انوارالعلوم (جلد 4) — Page 207
دم جلد - ۲۰۷ حقارت سے یہ لکھا جاتا ہے کہ چند الہامات ہو جانے کے باعث آپ کیا نبی بن گئے۔غرض ہر طرح خدا تعالیٰ کے اس برگزیدہ کی ہتک کرنے والے اور اس کے مسیح ناصری کو بن باپ قرار دینے کے عقیدہ کو شرک قرار دینے والے آپ کے ساتھ وہ تعلق رکھتے ہیں کہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ آپ سے ہیں اور آپ ان سے ہیں بلکہ بہت سی باتوں میں آپ ان کے مؤید اور ناصری ہیں۔پس ان واقعات پر غور کریں اور جیسا کہ خود آپ نے تحریر فرمایا ہے اس بات کو مد نظر کہ موت صرف بیمار ہی کے قریب نہیں بلکہ تندرست چلتا پھرتا آدمی بھی اس کی پیٹ میں آجاتا ہے۔پس خدا تعالٰی سے ملنے سے پہلے اپنا حساب درست کریں تاکہ اس وقت حسرت و اندوہ سے ہاتھ نہ ملنے پڑیں۔مولوی صاحب! آپ شکایت فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے مریدوں کو منع کیا ہوا ہے کہ وہ آپ لوگوں کی کتابیں پڑھا کریں اور آپ چاہتے ہیں کہ میں اعلان کروں بلکہ حکم دوں کہ وہ ضرور آپ لوگوں کی کتابیں پڑھا کریں۔مگر میرے نزدیک یہ شکایت بے جا ہے۔میں نے بارہا اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ وہ ہر عقیدہ کو سوچ سمجھ کر قبول کریں بلکہ بارہا یہ کہا ہے کہ اگر وہ کسی بات کو زید و بکر کے کہنے سے مانتے ہیں تو گو وہ حق پر بھی ہوں تب بھی ان سے سوال ہو گا کہ بلا سوچے انہوں نے ان باتوں پر کیونکر یقین کر لیا اور میرے خطبات اس پر شاہد ہیں۔ہاں ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہو تاکہ مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنی کتب سے واقف نہیں اگر مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے گا تو خطرہ ہے کہ ابتلاء میں پڑے۔ایک شخص اگر قرآن کریم تو نہ پڑھے اور انجیل اور وید اور زند اوستا اور ستیارتھ پرکاش کا مطالعہ رکھے اور کہے کہ میں تحقیق کر رہا ہوں تو کیا ایسا شخص حق پر ہو گا اور اس کا یہ عمل قابل تحسین سمجھا جاوے گا۔ہاں جو شخص اپنے مذہب سے اچھی طرح واقف ہو وہ دوسرے لوگوں کی باتوں کو بھی سن سکتا ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو ہمارے لٹریچر سے پوری طرح واقف نہیں اور جو مسائل مختلفہ میں کما حقہ میری کتب اور رسائل داشتہارات اور دیگر واقف کاران جماعت کی کتب و رسائل کا مطالعہ نہیں کر چکے ہیں باقی کسی کو میں آپ کے لٹریچر کے پڑھنے سے نہیں روکتا اور نہ میں نے کبھی روکا ہے۔ہاں مطالعہ دوسری کتب کا ہمیشہ دو ہی شخص کیا کرتے ہیں یا تو وہ جنہوں نے مخالف کے اعتراضات کا جواب دیتا ہو یا وہ جن کی غرض صرف زیادتی علم ہو۔پہلے گروہ کو تو کوئی روک ہی نہیں۔دوسرے لوگوں میں سے وہ جو پہلے اپنی کتب و رسائل