انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 208

العلوم جلد ۴ ۲۰۸ حقیقت الامر۔اچھی طرح پڑھ چکے ہوں اور ان پر خوب عمدہ طور پر عبور رکھتے ہوں اور ان کا دل ایسے دلائل سے جو پھر کسی مزید تحقیقات کی ضرورت باقی نہ رکھتا ہو تسلی یافتہ ہوں دوسرے ہر ایک مذہب کی کتاب کو پڑھ سکتے میں ان کو کوئی روک نہیں۔کیونکہ جسے باوجود اپنے مذہب کے مطالعہ کے ایسا شرح صدر عطا نہیں ہوا کہ جس کے بعد کسی اور مزید دلیل کی ضرورت نہ رہے اور عیاناً وہ اپنے مذہب کی سچائی کو نہیں دیکھتا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ پوری تحقیق کرے تاکہ قیامت کے دن اس سے باز پرس نہ ہو۔اور یہ جو میں نے ایسے لوگوں کا استثناء کیا ہے جو عیاناً اپنے عقائد کی سچائی دیکھ چکے ہوں اور کسی مزید دلیل کے محتاج نہ ہوں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کا ان کتب کا مطالعہ کرنا لغو اور بے ہودہ فعل ہو گا۔کیونکہ انہوں نے جواب تو دینا نہیں اور ان کو مزید تحقیق کی ضرورت نہیں۔پھر وہ کیوں اپنے وقت کو ضائع کریں اور ممکن ہے کہ ان کو دیکھ کر بعض اور لوگ جو اپنے مذہب سے آگاہ نہیں ان کی تتبع کر کے تباہ ہوں۔اور اگر آپ فرما دیں کہ جب دوسرے مذاہب کا ان لوگوں نے مطالعہ نہیں کیا تو ان کو کیونکر معلوم ہو گا کہ وہ جس عقیدہ پر قائم ہیں وہی بجا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی مذہب کی صداقت معلوم کرنے کے لئے صرف یہی طریق نہیں کہ دوسرے خیالات سے اس کا مقابلہ کیا جائے بلکہ بچے عقیدے اپنے اندر بھی ایسی خوبیاں رکھتے ہیں کہ وہ اپنی صداقت پر آپ گواہ ہوتے ہیں۔اور ان کی صداقت کا انسان معائنہ کر سکتا ہے۔مثلاً اسلام اپنے اندر ایسی خوبیاں رکھتا ہے کہ بغیر اس نے کے کہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کیا جاوے اس کا ایک کامل پیرو اس کی صداقت پر تسلی پاسکتا ہے اور اس کے دلائل دے سکتا ہے۔ورنہ نعوذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ صحابہ کا ایمان کامل نہ تھا کیونکہ انہوں نے دیگر مذاہب کی تحقیق نہیں کی تھی بلکہ کوئی شخص بھی اس اصل کے مطابق ایسا نہ ملے گا جسے یقین کرنے کا حق حاصل ہو کہ وہ بچے مذہب پر ہے اور مزید تحقیق کی اسے ضرورت نہیں۔کیونکہ کوئی ایسا انسان نہیں ملے گا کہ جس نے دنیا کے سب مذاہب کا کما حقہ مطالعہ کیا ہو۔بلکہ خود آپ بھی کہ جن کو اس وقت اس قدر خدمت دینی کا دعوئی ہے اس بات کا دعوئی نہیں کر سکتے۔تو کیا ہم یہ کہیں کہ آپ کا حق نہیں کہ اپنے مذہب کی سچائی پر مطمئن ہوں کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی ایسا مذہب بھی نکل آوے جس کے دلائل سے آپ آگاہ نہ ہوں اور وہ سچا ہو۔کیا بچے مذہب کے اندر کوئی ایسی صداقت موجود نہیں ہوتی کہ جو اپنی ذات کے اندر اپنی دلیل رکھتی ہو۔اگر ایسا ہے اور ضرور ہے تو پھر ایمان کے کمال کے لئے بھی ضروری نہیں