انوارالعلوم (جلد 4) — Page 163
م جلد ۴ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے کہ وہ خواب جس کو ہم حدیث النفس کہتے ہیں کبھی پوری بھی ہو جاتی ہے۔وہ کبھی پوری نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے۔کیونکہ جب یہ مسلمہ امر ہے کہ انسان کا دماغ آئندہ ہونے والی بات کے متعلق کچھ نہیں بتا سکتا۔تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایسی خواب جو دماغ سے ہی پیدا ہوئی ہو وہ پوری بھی ہو جائے۔سوائے اس کے کہ کبھی بعض آئندہ آنے والے واقعات گزرے ہوئے واقعات کا نتیجہ اور ثمرہ ہوں یا کبھی اتفاقی طور پر کوئی بات درست نکل آوے۔دراصل خواب کے پورا ہونے سے یہ غلط نتیجہ نکالا گیا ہے کہ حدیث النفس بھی پوری ہو جاتی ہے۔بات یہ ہے کہ جو خواب پوری ہو جائے۔وہ حدیث النفس کی وجہ سے پوری نہیں ہوتی بلکہ اس لئے پوری ہوتی ہے کہ خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔اس پر پھر وہی سوال پڑتا ہے کہ بعض لوگوں کو کیوں منحوس ہی خواہیں آتی ہیں اور بعض کو اچھی۔کیا خدا ظالم ہے کہ ایک کو بری ہی خواب دکھاتا ہے اور دوسرے کو اچھی ہی۔اس کا جواب یہ ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالی فرماتا ہے مُلا تُمِد هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ، وَمَا كَانَ عَطَاء رَبِّكَ مَحْظُورًا (بنی اسرئیل (۲۱) یعنی ہم ہر ایک کی اپنی عطاء کے ساتھ مدد کرتے ہیں اور اس کی فریاد کو پہنچتے ہیں۔ان کی بھی اور ان کی بھی اور تیرے رب کی عطاء کسی سے رو کی نہیں گئی۔تو اسی سنت الہی کے ماتحت وہ لوگ جن کو ڈراؤنی اور بھیانک ہاتوں میں مزا آتا ہے ان کو کبھی کبھی ان کی طبیعت کے مطابق بھیانک اور ڈراؤنی خوابیں دکھائی جاتی ہیں اور بعض کو چونکہ اچھی اور خوشی پہنچانے والی باتوں سے محبت اور تعلق ہوتا ہے اس لئے ان کو اچھی خوابیں آتی ہیں۔پس منحوس لوگوں کو ہی منحوس خوابیں آتی رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ کسی روحانی بلند مرتبہ اور اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچ سکتے اور کبھی کوئی نبی نہیں ہوا جس کو منحوس ہی منحوس خوابیں آتی رہی ہوں۔پس ان لوگوں کی خوابیں بھی ہوتی تو خدا ہی کی طرف سے ہیں مگر ان کے حالات کے مطابق ہوتی ہیں کیونکہ ان کو منحوس باتوں سے ہی تعلق ہو تا ہے۔اسی طرح جن کو اچھی باتوں سے تعلق ہوتا ہے ان کو اپنے حالات کے مطابق اچھی آتی ہیں تو یہ سب کچھ كُلا تمتُ هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلَاءِ کے ماتحت ہوتا ہے۔یہ تو ان لوگوں کا ذکر ہے جو ادنی درجہ کے ہوتے ہیں۔لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان مؤمن اور متقی ہوتا ہے۔لیکن اسے منحوس خواب دکھائی جاتی ہے اور