انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 164

145 حقیقته الرؤيا دوسرے کو اچھی اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ حکیم ہے اس کی کوئی بات حکمت کے خلاف نہیں ہوتی۔اس کا ایسا کرنا بھی ایک بہت بڑی حکمت کے ماتحت ہوتا ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اکثر مقامات پر بتایا ہے کہ بعض طبائع تو اس قسم کی ہوتی ہیں جو انعام پاکر جھکتی ہیں اور بعض اس قسم کی ہوتی ہیں جو سزا سے جھکتی ہیں۔پس اس فطرتی تقاضا کے ماتحت وہ لوگ جن کی طبیعتیں ڈر اور خوف سے درست رہتی ہیں ان کو ڈراؤنی خواہیں دکھائی جاتی ہیں۔کیونکہ اگر انہیں خوشی والی دکھائی جائیں تو ان کی طبیعتیں بگڑ جاتی ہیں اور ان کے لئے نقصان کا موجب بنتی ہیں۔لیکن یہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو ابھی سلوک کے راستہ پر چل رہے ہوتے ہیں اور کسی منزل پر نہیں پہنچے ہوتے۔ان پر جو تکلیف اور مصیبت آنے والی ہوتی ہے۔وہ اگر نہ بھی بتائی جائے تو بھی آجائے گی لیکن جب انہیں قبل از وقت بتلا دیا جاتا ہے تو وہ اپنی اصلاح کر لیتے اور بچاؤ کے طریق سوچ لیتے ہیں۔اس سے نہ صرف ان کے ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔لیکن ایک مؤمن ایسے ہوتے ہیں کہ انعام کے ملنے پر ترقی کرتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ان کی ترقی اور اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ انہیں خوشخبری والی خوابیں دکھاتا رہتا ہے۔تو یہ دونوں قسم کی خواہیں دو مختلف طبائع کے لوگوں کی اصلاح کے لئے ہوتی ہیں۔اگر ان کی طبیعتوں کے مطابق ان کی خوابوں میں فرق نہ رکھا جائے تو وہ اس قدر ترقی نہیں کر سکتے جس قدر اس صورت میں کرتے ہیں۔دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر واقعہ میں خدا کی طرف سے خواب ہوتی خواب کا بھول جانا ہے تو وہ بھول کیوں جاتی ہے۔جب خدا انسان کے فائدہ اور نفع کے لئے اسے کچھ دکھاتا ہے تو پھر ضروری ہے کہ وہ اسے یاد بھی رہے تاکہ اس سے فائدہ اٹھا سکے لیکن کئی خواہیں بھول جاتی ہیں۔جس سے یا تو یہ کہنا پڑے گا کہ یہ نفس کے خیالات ہوتے ہیں یا یہ ماننا پڑے گا کہ خدا بھی ایسے لغو کام کرتا ہے جن کا کوئی نتیجہ اور فائدہ مترتب نہیں ہوتا؟ اس کا ایک جواب تو یہی ہے کہ ہم مانتے ہیں بعض خواہیں حدیث النفس بھی ہوتی ہیں اگر وہ بھول جائیں تو کیا حرج ہے۔لیکن اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے بانی حضرت محمد ﷺ اور حضرت مرزا صاحب کو بھی بعض رویا بھول گئی تھیں۔کیا ان کو بھی حدیث النفس کہو گے۔ان کی تمام کی تمام رویا تمہارے نزدیک خدا کی طرف سے ہوتی تھیں پھر ان کو