انوارالعلوم (جلد 4) — Page 118
علم حاصل کرو انوار العلوم جلد ۴ ۱۱۸ جاننے کی وجہ سے نقصان نہیں ہوتا۔مثلاً اگر کوئی تاریخ نہیں جانتا تو اس سے نہ تو اس کے دین میں کچھ نقص واقع ہو جائے گا اور نہ اس کی صحت میں فرق آجائے گا لیکن اگر حفظ صحت کے قواعد سے ناواقف ہوگا تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی اور اس کی وجہ سے دین کے احکام پر عمل کرنے میں بھی نقص پیدا ہو جائے گا اور اگر دین کا علم نہ ہو تو پھر تو بہت ہی زیادہ نقصان پہنچے گا۔پس سب سے ضروری علم یہی دو ہیں۔ایک جسموں کا علم دوسرا دینوں کا علم، لیکن ان میں بھی فرق ہے۔جسموں کا علم تو ایک عارضی اور محدود زمانے سے تعلق رکھتا ہے، جب کوئی دنیا سے گذر گیا تو اس کا یہ علم بھی ختم ہو گیا اور اس کی اسے کچھ ضرورت نہ رہی کیونکہ اسے کوئی دکھ رہا نہ درد نہ کسی علاج کی ضرورت رہی نہ کسی دوا کی، مگر دین کا علم صرف اسی دنیا سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ مرنے کے بعد دوسری دنیا سے بھی تعلق رکھتا ہے۔دیکھو اگر کسی کا جسم بیمار ہو اور وہ مرجائے تو اس دکھ سے اس کی نجات ہو جائے گی۔لیکن اگر کسی کا دین بیمار ہو اور وہ مرجائے تو وہ اور بھی زیادہ تکلیف پائے گا کیونکہ یہ دنیا دار العمل ہے کیلتے اور اگلا جہان دار المکافات- کام یہاں کرنا ہوتا ہے اور بدلہ وہاں ملتا ہے۔پس جسم کا بیمار اگر مرجائے تو بیماری سے بچ جاتا ہے لیکن دین کا بیمار اگر مرجائے تو اصل بیماری اور دکھ اس کیلئے اس وقت شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ایسے غیر محدود عرصہ ہوتا ہے کہ جس کی کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی۔یہاں کی سزائیں اور تکلیفیں تو ختم ہو جاتی ہیں مگر خدا تعالی کہتا ہے کہ وہاں کا دکھ ایسا ہو گا کہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کیلئے ہی ہے۔دکھ اور درد تو ایک دن کا بھی بڑا ہوتا ہے ذرا کوئی تکلیف ہو تو انسان چاہتا ہے کہ مرکز اس سے چھوٹ جاؤں مگر وہاں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا۔کروڑوں کروڑ سال کا دکھ ہوگا اور اتنا بڑا کہ جس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ممکن ہے کہ کوئی انسان اندازہ کرسکے۔رسول کریم ال سے حدیثوں میں مروی ہے کہ اُس آگ کو اگر لاکھ دفعہ بھی ٹھنڈا کیا جائے تو بھی اس دنیا کی آگ سے زیادہ تیز ہوگی۔اب خود سمجھ لو کہ جب اس آگ کو ایک منٹ کیلئے انسان کی انگلی برداشت نہیں کر سکتی تو اس آگ کو اس کا سارا جسم بے اندازہ عرصہ کیلئے کس طرح برداشت کرے گا۔پس ہر ایک انسان کو چاہئے کہ اس علم کے حاصل کرنے کی خاص کوشش کرے کیونکہ اس کے دیکھنے سے وہ نہ صرف اس دنیا کے دکھوں سے بیچ کر نفع حاصل کر سکتا ہے بلکہ اگلی دنیا کے عذابوں سے بھی بیچ کر انعام و اکرام کا وارث ہو سکتا ہے۔یہی وجہ