انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 108

انوار العلوم جلد ۴ علم حاصل کرو لڑکے اسے پانی میں لے جاتے اور توڑ ڈالتے۔ایک دن میں نے کچھ لڑکوں کو مقرر کر دیا کہ جب کوئی شخص کشتی لینے آئے تو مجھے خبر کرنا۔چنانچہ جب کچھ لڑکے کشتی کو سیر کیلئے لے گئے تو انہوں نے مجھے اطلاع دی، میں ہاتھ میں سوئی لے کر گیا کہ اس سے ان کو ماروں گا۔وہ مجھے دیکھ کر کشتی کو چھوڑ کر بھاگے، ایک میرے سامنے سے گزرا اور میں نے تھپڑ مارنے کیلئے زو سے ہاتھ اٹھایا تو اس نے اپنا منہ میرے سامنے کر دیا اور کہا کہ لو مرزا جی مارلو- اس کی یہ بات نا کر میرے اعصاب ڈھیلے ہو گئے اور ہاتھ بے اختیار گر گیا اور چھوڑ کر چلا آیا۔تو نرمی ہر شخص کو مجھکا دیتی ہے۔پس وہ جو ایک دوسرے کے بھائی اور دوست ہوں ان سے اگر نرمی اور اسن ملائمت کا سلوک کیا جائے تو وہ کیوں محبت اور الفت سے بھر کر آگے نہ مجھک جائیں گے۔زور رسول کریم کے اخلاق آپ لوگ اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ ہم لوگ جس نبی کے پیرو ہیں وہ بڑے ہی اعلیٰ اخلاق والا انسان تھا۔آپ ایسے اخلاق والا نہ کوئی پہلے ہوا ہے اور نہ کوئی ہو سکتا ہے، پھر آپ کے بروز حضرت مسیح موعود کے بھی بے نظیر اخلاق تھے۔اب تم خود ہی غور کرلو کہ ایسے نبیوں کے پیرو اور مرید ہو کر تمہیں کیسے اخلاق دکھانے چاہئیں۔مجھے مسلمان کہلانے والوں پر تعجب ہی آیا کرتا ہے اللہ تعالی ان پر رحم کرے، رسول کریم ﷺ کی کوئی خوبی آپ کی طرف منسوب نہیں ہونے دیتے۔قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کی بیشمار خوبیاں بیان کی گئی ہیں مگر یہ سب حضرت عیسی " کی طرف منسوب کرتے ہیں اور آنحضرت لا کے متعلق مفسرین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں کہ فلاں فلاں آیت میں نَعُوذُ باللہ) آپ پر عتاب نازل ہوا۔خدا تعالی تو فرماتا ہے۔قُلْ اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران: ۳۲)- کہ لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو تو مجھے اپنا محبوب بناؤ مگر وہ کہتے ہیں کہ آپ پر خدا تعالیٰ عتاب ہی عتاب کرتا رہا ہے۔وہ جن آئیتوں کو عتابی قرار دیتے ہیں ان میں سے ایک کو پڑھ کر تو مجھے اتنا مزا آتا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ اگر رسول اللہ سامنے ہوں تو آپ کو محبت سے چمٹ ہی جاؤں۔خدا تعالیٰ آپ کے اخلاق کے متعلق ایک بات بیان فرماتا ہے اور وہ یہ کہ عبس - اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمى (عبس:۳۴۲)۔اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا کہ اس کے پاس ایک اندھا آگیا۔مفسرین کہتے ہیں یہ عتابی آیت ہے اور اس میں خدا نے آنحضرت کو یہ سزا دی ہے کہ آپ کو صیغہ غائب سے مخاطب کیا ہے اور ناراضگی کی وجہ سے