انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 109

١٠٩ علم حاصل کرو انوار العلوم جلدم نام نہیں لیا کیونکہ جب آپ کے پاس اندھا آیا تو آپ نے تیوری چڑھائی اور اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔اس پر خدا تعالیٰ کو ایسا غصہ آیا کہ آپ کو مخاطب کرنا پسند نہ کیا۔لیکن نادان نہیں جانتے کہ یہ نہایت پیار اور محبت کا کلام ہے۔کسی سے ناراضگی اور ناپسندیدگی کیوں کی جاتی ہے اس لئے کہ اس پر اس کا اظہار ہو جائے اور وہ سمجھ لے کہ میری فلاں حرکت پر ناراضگی ہوئی ہے اور یہ حرکت بعض دفعہ بداخلاقی سمجھی جاتی ہے۔لیکن اگر کسی کی کوئی بات نا پسند ہو اور اس ناپسندیدگی کا اظہار اس پر نہ کیا جائے تو یہ بد خلقی نہیں۔بلکہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق میں سے ہے۔مثلاً کوئی کسی کے بیٹے کو مار رہا ہو اور وہ پاس سے گذرے تو اپنے بیٹے کو پٹتا دیکھ کر اسے ناراضگی تو طبعاً ہونی چاہئے اور ہوگی لیکن اگر وہ اس کو ظاہر نہ ہونے دے اور مارنے والے سے اپنی ناراضگی کو بالکل چھپائے رکھے تو یہ اس کا خُلق ہو گا نہ کہ بد خلقی دنیا میں ناراضگی کا اظہار کئی طریق سے کیا جاتا ہے، کئی اس کا اظہار مارنے کے ذریعہ کرتے ہیں، کئی گالیوں کے ذریعہ کرتے ہیں، کئی درشت اور کرخت آواز سے کرتے ہیں۔اور کئی چہرہ کی بناوٹ سے کرتے ہیں۔اب یہ دیکھنا چاہیئے کہ آنحضرت ا نے جو اظہارِ ناپسندیدگی کیا تو کس طریق سے کیا۔اسی طریق سے کہ تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا لیکن یہ ایسا طریق تھا کہ جس سے اندھے پر ہرگز ظاہر نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کی کسی حرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ نہ تو وہ منہ کی بناوٹ کو دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی منہ پھیرنے کو معلوم کر سکتا تھا۔پھر اس کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے بد خلقی کیا کی؟ اس کے ساتھ بد خلقتی تو تب ہوتی کہ اس کو کوئی گالی دی جاتی یا سختی سے کچھ کہا جاتا لیکن رسول کریم ﷺ نے ایسا نہیں کیا بلکہ ایسا طریق اختیار کیا جس کا اسے احساس تک نہ ہوا۔پس یہ اعلیٰ درجہ کا خلق ہے نہ کہ بد خلقی۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں غائب کے صیغے استعمال کئے ہیں کیونکہ ان صیغوں میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گویا اللہ تعالٰی اس وقت رسول کریم" سے مخاطب نہیں بلکہ دوسرے لوگوں سے مخاطب ہے اور دوسرے سے خطاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اخلاق حسنہ کا ذکر کرتا ہے کیونکہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اس برگزیدہ رسول کی کوئی معمولی غلطی دیکھ کر (اگر اس غلطی کو مانا جائے) لوگوں کو اس غلطی پر آگاہ کر کے اس پر اسے شرمندہ کرے گا۔میرے نزدیک تو غائب کے صیغے ہی بتا رہے ہیں کہ عتاب نہیں خوبی کا اظہار ہے اور خدا تعالی باقی دنیا کو لوگوں سے۔